قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 140 of 365

قسمت کے ثمار — Page 140

کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر نہ دو گے تو ڈنڈے ماروں گا تو بجز اس کے کہ خوداس کو ڈنڈے پڑیں اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔خدا تعالیٰ سے اڑ کر مانگنا اور اپنے ایمان کو مشروط کرنا بڑی بھاری غلطی اور ٹھوکر کا موجب ہے۔دعاؤں میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اڑ کر مانگنا اور بات ہے۔یہ کہنا کہ میر افلاں کام اگر نہ ہوا تو میں انکار کر دوں گا یا یہ کہہ دوں گا۔یہ بڑی نادانی اور شرک ہے۔اور آداب الدعا سے ناواقفیت ہے۔ایسے لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں۔قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہر ایک دعا تمہاری مرضی کے موافق میں قبول کروں گا۔بیشک یہ ہم مانتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن (61) لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسی قرآن شریف میں یہ بھی لکھا ہوا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ (البقرة 156) آيت ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن (61) میں اگر تمہاری مانتا ہے تو وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ میں اپنی منوانی چاہتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے۔ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہرگز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 296-297 جدید ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) الفضل انٹرنیشنل 10 دسمبر 2004ء) 00 140