قسمت کے ثمار — Page 123
انسان ہمیشہ اس جہاد پر کمر بستہ رہے۔بظاہر یہ کام بہت مشکل لگتا ہے مگر خدائے رحیم وکریم کی مدد سے یہ مشکل بھی آسان ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس اہم کام میں بدل وجان مصروف ہونے والوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: 70) یعنی وہ لوگ جو میری رضا و خوشنودی کی خاطر جہاد کرتے ہیں ہم ان کی کامیابی اور حصول مقصد کے لئے کئی رستے کھول دیتے ہیں اور آسانیاں پیدا کر دیتے ہیں۔اور جب حصول مقصد میں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو انسان کی جرات اور حوصلہ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے اور قدم بہ قدم منزل کا حصول اللہ تعالیٰ کی مدد اور وعدہ کے مطابق ممکن وآسان ہوجاتا ہے۔جہاد اکبر کرتے ہوئے مومن کا شیطان سے مقابلہ ہوتا ہے۔شیطانی وساوس اتنے متنوع اور اتنے زیادہ اور اتنے مخفی اور پوشیدہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر ان سے بچنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔اس غرض سے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے لئے دعاؤں میں لگا ر ہے اور اس طرح وہ اس خوش نصیب گروہ میں شامل ہو جاوے جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ عِبَادِي ليْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (الحجر :43) میرے بندے بن جانے والوں پر شیطان غالب نہیں آسکتا۔زندہ وہی ہیں جو کہ خدا کے قریب ہیں مقبول بن کے اس کے عزیز و حبیب ہیں وہ دور ہیں خدا سے جو تقویٰ سے دور ہیں ہر دم اسیر نخوت و کبر و غرور ہیں الفضل انٹرنیشنل8 اکتوبر 2004ء) 123