قسمت کے ثمار — Page 110
قرار دیا تھا مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم دیو بند کے فارغ التحصیل تھے۔آپ کا علمی مقام اتنا بلند تھا کہ دارالعلوم دیو بند اور کسی بھی دوسرے مدرسہ میں آپ بڑے سے بڑے منصب پر فائز ہوکر دنیوی لحاظ سے بہت خوشحال زندگی گزار سکتے تھے مگر آپ نے ایسی پیشکشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قادیان میں رہائش کو ترجیح دی جہاں کسی دنیوی وجاحت ولالچ کا کوئی سامان میسر نہ تھا البتہ مسیح دوراں کی فیض مصاحبت کا قابل رشک موقع ضرور میسر تھا۔حضرت مولوی صاحب کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفة المسیح الثالث) اس ادارہ کے پرنسپل مقرر ہوئے اور ان کے بعد حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اس منصب جلیلہ پر فائز ہوئے۔جامعہ احمدیہ ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔علمی میدان کے علاوہ خدمت کے اور کئی میدانوں میں جامعہ کے طالب علم اور اساتذہ پیش پیش تھے برصغیر کی تقسیم کی وجہ سے حالات تبدیل ہو گئے۔پاکستان میں آکر کسمپرسی کی ایسی حالت تھی جو آج پوری طرح تصور میں بھی نہیں آسکتی۔اساتذہ ادھر ادھر چلے گئے۔طالب علموں کا شیرازہ بکھر گیا۔اس پر مستزاد یہ کہ جامعہ احمدیہ کے لئے نہ کوئی عمارت نہ کوئی فرنیچر اور نہ ہی کوئی اور سامان تھا۔ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود بنا ان کی اولوالعزمی میں برکت عطا فرمائی۔ایک متروکہ عمارت میں ایک خستہ حال چٹائی پر پھر سے جامعہ احمد یہ شروع ہو گیا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اس وقت قادیان میں تھے حضرت حافظ مبارک احمد صاحب واحد استاد تھے جو اکلوتی چٹائی پر مختلف درجوں کے چند شاگردوں کو درس دیا کرتے تھے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی آمد پر انہوں نے اس بے سامان جامعہ کا چارج لے لیا۔جامعہ احمد یہ لاہور سے چنیوٹ اور چنیوٹ سے احمد نگر منتقل ہوا۔جانور باندھنے کی جگہ جو اصطبل کے نام سے مشہور تھی جامعہ احمدیہ کا مستقر بنی اور آہستہ آہستہ یہ قافلہ آگے بڑھنے لگا۔احمد نگر سے جامعہ احمدیہ کی ربوہ منتقلی بھی عجیب حالت میں ہوئی۔لنگر خانہ کے لئے ایک عارضی عمارت 110