قسمت کے ثمار — Page 54
عافیت کا حصار انسان ہمیشہ امن کا متلاشی رہا ہے۔تیر کمان کے زمانے بلکہ اس سے بھی پہلے پتھر کے زمانہ سے لیکر آج کے ایٹمی دور میں بھی امن وسکون کی ضرورت ویسے ہی ہے جیسے پہلے تھی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بے چینی و بے اطمینانی میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ دنیا ہر لحاظ سے بہت ترقی کر چکی ہے۔وہ کام جو پہلے سینکڑوں ہزاروں آدمی ہفتوں بلکہ مہینوں میں کرتے تھے اب پلک جھپکتے میں ہو جاتے ہیں۔وہ سفر جو راستہ کی مشکلات اور صعوبتوں سے بچنے کیلئے قافلوں کی صورت میں کئے جاتے تھے اور جس سفر کو شروع کرتے ہوئے مسافر اور الوداع کہنے والے آپس میں اس طرح ملا کرتے تھے جیسے وہ آخری سفر پر جارہے ہوں اور دوبارہ ملاقات شاید میسر ہی نہ آئے ، اب تیز رفتار سواریوں اور سفر کی سہولتوں کی وجہ سے عام طور پر سفر ہی نہیں سمجھے جاتے۔ذرائع ابلاغ کی ترقی بھی اپنی مثال آپ ہے۔وہ خبر جو پہلے ڈاک کے گھوڑوں ، کبوتروں اور قاصدوں وغیرہ کے ذریعہ دنوں اور ہفتوں میں ملا کرتی تھی اب پلک جھپکتے ہی دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔پچھلے زمانہ میں بھی لوگ باہم اختلاف کرتے تھے اور اس اختلاف کے نتیجہ میں لڑائیوں تک نوبت پہنچ جایا کرتی تھی مگر اس زمانہ کی لڑائی میں ہاتھا پائی کے بعد کہیں ڈانگ سوٹے اور چاقو یا تلوار کا ذکر آتا تھا۔ظاہر ہے اس صورت میں نقصان بھی بہت محدود ہوتا تھا۔موجودہ زمانے میں جنگی 54