قسمت کے ثمار — Page 351
را جی کی بنیا جیسے آسمان احمدیت کے روشن ستارے بھی تھے۔یہاں اس امر کا بیان بھی موجب دلچسپی ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں جامعہ احمدیہ کے طلباء دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے تھے۔یعنی کچھ طالب علم خدمت کے میدان میں صدر انجمن احمد یہ یا اصلاح وارشاد کے میدان میں بطور مربی کام کرنے کے لئے مختص ہو جاتے تھے اور کچھ انجمن احمد یہ تحریک جدید میں بیرونی ممالک میں تبلیغ و تربیت کی خدمات بجالانے کے لئے مختص ہوتے تھے۔ہماری کلاس جامعہ احمدیہ احمد نگر میں جاری تھی۔ایک دن ہم نے دیکھا کہ ربوہ سے بعض بزرگ ہماری کلاس میں آئے اور انہوں نے ایک ایک طالب علم کی طرف اشارہ کر کے جس طرح کھلاڑیوں کی ٹیمیں چینی جاتی ہیں۔اس طرح ہمیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہ تحریک جدید انجمن کے نمائندگان تھے اور اپنے اپنے حصے کے طلباء کا انتخاب کر رہے تھے۔ہم طالب علموں کو یہ بات عجیب سی لگی مگر وقف زندگی کی روح کے پیش نظر کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔کئی سالوں تک جماعت میں یہ تقسیم چلتی رہی مگر بعض مشکلات اور قباحتوں کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثالث دایمیہ نے اس طریق کو ختم کر کے حدیقہ المبلغین یا Pool کا طرز رائج فرمایا جس کے مطابق تمام مربی حسب ضرورت تحریک یا انجمن میں کام کرتے تھے۔اور پہلے سے کوئی تقسیم یا تفریق نہیں کی جاتی تھی۔خاکسار اس تقسیم کے تحت صدر انجمن کا مربی تھا جسے پاکستان میں ہی خدمت کا موقع مل سکتا تھا۔جامعتہ المبشرین کے آخری سال 1956 کی بات ہے ہماری کلاس ہو رہی تھی ہمارے پرنسپل حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب اور مکرم شیخ خورشید احمد صاحب اُستاد حدیث کلاس میں تشریف لائے۔حضرت مولوی صاحب نے حضرت امام احمد بن حنبل کے متعلق ایک نوٹ ہمیں املا کر وایا یہ بات سمجھ میں نہ آسکی کہ اس طرح لکھوانے کا کیا مقصد تھا بعد میں پتہ چلا کہ اس طرح ہماری ہینڈ رائٹنگ دیکھنا مد نظر تھا۔ہمارے لکھے ہوئے کاغذوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد حضرت مولوی 351