قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 311 of 365

قسمت کے ثمار — Page 311

بھی ہمارے سامنے موجود ہیں اور یہ ثابت کرنے کیلئے بہت کافی ہیں کہ آپ نے ان میں وہ رہنما اصول بیان فرمائے تھے جو ہمیشہ ہی کارآمد مفید ثابت ہوئے اور جن سے کوئی بھی رہنما ، خواہ وہ کتنا ہی تجربہ کار اور سمجھدار ہو اپنے آپ کو الگ نہیں رکھ سکتا۔آپ نے اپنی زندگی ایک مستعد پر جوش کارکن کے طور پر شروع کی اور جب آپ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو آپ کے نمونے اور جذبے کے پیش نظر آپ کے قریبی ساتھیوں کو یقین تھا کہ آپ جو کہتے ہیں اس پر خود بھی پوری طرح عمل پیرا ہوتے ہیں اس لئے آپ کے ساتھیوں میں بھی یہ جذبہ پیدا ہو گیا کہ آپ کی بتائی ہوئی ہر بات کی پوری طرح اطاعت کی جائے۔حضرت مصلح موعود ہی کھنہ نے اپنے بیان کردہ لائحہ عمل کو جب عملی صورت دی تو ہماری صدر انجمن احمد یہ اور نظارتوں کی موجودہ شکل پیدا ہوئی۔اس انجمن کے کام کو چلانے کیلئے آپ کو جو ساتھی ملے وہ یقیناً اس جذبہ قربانی سے سرشار تھے جو خود آپ کی سیرت میں موجود تھا۔اس طرح کامیابی کا پہلا ظاہری سامان آپ کو میسر آ گیا۔حضرت مصلح موعود بنی عنہ نے اپنی ساری زندگی خدا تعالیٰ کی خاطر وقف رکھی اور کبھی بھی اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کچھ حصہ خدا کے لئے اور کچھ اپنے لئے الگ نہ کیا۔تن من دھن تو۔قربان کیا ہی تھا آپ نے اپنی اولا د ( تیرہ بیٹوں ) کو وقف کیا۔آپ کی سیرت اور عملی نمونہ سے جماعت بھی قربانی کے اس جذبہ سے سرشار ہوگئی اور پڑھے لکھے معزز عہدوں پر فائز نوجوان اپنے امام کی آواز پر اپنی زندگیاں وقف کر کے خدمت کے ایسے میدان میں مصروف عمل ہو گئے جہاں قدم قدم پر دوسری قربانیوں کے علاوہ جذبات کی قربانی بھی پیش کرنی پڑتی تھی۔قادیان میں ایک خطرہ کے وقت لاہور میں احمد یہ ہوٹل کے احمدی نوجوان اپنے امیر حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بنی اللہ کی قیادت میں قادیان پہنچ گئے اور اس جذ بہ قربانی کے ساتھ کہ جب بٹالہ سٹیشن سے آگے کسی سواری کا بندوبست کرنے میں وقت کے ضیاع کا خطرہ تھا تو نو جوانوں 311