قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 27 of 365

قسمت کے ثمار — Page 27

میں جلد بندی بھی خود ہی کرنے لگے۔ایک دفعہ ان کا بڑا بیٹا جو مولوی فاضل ہونے کی وجہ سے پڑھا لکھا سمجھا جاسکتا تھا ان سے ملنے قادیان گیا ہوا تھا کہ رہائش گاہ میں شیلف بنا کر ہزاروں کتابیں چن رکھی ہیں۔ہر کتاب کی حسب ضرورت سلائی ، جز بندی یا جلد وغیرہ بھی اپنے ہاتھ سے کی ہوئی ہے۔اس نے کہا کہ ابا جان، آپ نے یہ بہت بڑی ذمہ داری از خود اپنے اوپر ڈال رکھی ہے۔اس کا آپ کی صحت پر برا اثر پڑتا ہوگا اور پھر یہ کوئی منتخب کتابیں بھی نہیں ہیں آخری بات کا پہلے جواب دیتے ہوئے بڑے اعتماد اور وثوق سے کہنے لگے کہ بیٹا ایک ہزار سے زیادہ کتابیں یہاں رکھی ہیں۔آپ ان میں کسی ایک کتاب کی نشان دہی کریں جو ہمارے علم کلام میں مفید نہ ہو یا جس میں کوئی غیر معمولی علمی اور دلچسپی کی بات نہ ہو اور حقیقت بھی یہی تھی کہ آپ نے قریباً ہر کتاب پر نشان لگائے ہوئے تھے یا شروع میں نوٹ دئے ہوئے تھے جن سے ان سب کی افادیت ، خصوصیت پہلی نظر میں سامنے آجاتی تھی۔علم کے شوق کی بات چل رہی ہے تو یہاں یہ بات بھی بے محل نہ ہو گی کہ آپ ہمیشہ ہی کسی بزرگ کی یہ بات کیا کرتے تھے کہ وہ کسی لمبے سفر پر جاتے ہوئے اپنی بیوی کے پاس اشرفیوں کی ایک تھیلی چھوڑ گئے۔برس ہا برس کے بعد واپسی ہوئی۔اپنی بیوی سے اور باتوں کے علاوہ اپنی اس رقم کے متعلق بھی پوچھا۔اس نے کہا کہ جلدی کیا ہے۔میں سب کچھ آپ کو بتا دوں گی۔وہ بزرگ نماز پڑھنے گئے تو دیکھا کہ نماز کے بعد ایک نوجوان نے درس دینا شروع کیا اور بہت بڑی تعداد میں لوگ بڑی توجہ اور عقیدت سے اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔گھر واپس آکر اپنی بیوی سے ذکر کیا تو اس نے بتایا کہ یہ درس دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ آپ کا بیٹا ہے جسے میں نے دینی علوم سے آراستہ کرنے کی ہر کوشش کی ہے اور خدا کا فضل ہے کہ وہ نو عمری میں پختہ کار عالم بن چکا ہے۔اب آپ یہ بتائیں کہ آپ اپنے لئے یہ بات زیادہ پسند کرتے ہیں یا وہ رقم زیادہ پسند کرتے ہیں جو میرے پاس چھوڑ گئے تھے۔یہ بات سنا کر بڑے کیف کے عالم میں کہا کرتے تھے کہ اس شخص 27