قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 251 of 365

قسمت کے ثمار — Page 251

جاسکتی کہ وہ کسی طرح بھی کسی خرابی اور فساد کا باعث بن سکتا ہے۔چہ جائیکہ علماء کرام کے متعلق یہ سمجھا اور کہا جائے کہ ان پر پابندی لگادی گئی ہے کیونکہ ان کی آمد ورفت سے فساد کا اندیشہ ہوتا ہے۔قرآنی محاورہ کے مطابق تو عالم وہ ہوتا ہے جو خشیتہ اللہ رکھتا ہو۔جیسا کہ فرمایا۔إِنَّمَا يَخْشَى الله مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: 29) اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔اسی طرح قرآن مجید فرماتا ہے وا تقو اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة:283) الله تعالیٰ سے ڈرو اور وہی تمہیں علم عطا فرماتا ہے۔معلوم ہوا کہ فساد پھیلانے والے اور تقویٰ سے عاری لوگ علماء کے زمرہ میں شامل نہیں ہو سکتے۔احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کی جو علامات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں نام کے سوا اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔قرآن مجید کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔(اس کا علم و عرفان اور انقلاب انگیز اثرات باقی نہیں رہیں گے )، اس زمانہ کے لوگوں کی مسجد میں بظاہر آباد ہوں گی مگر ہدایت نام کی کوئی چیز ان میں باقی نہ رہے ہوگی۔عُلَمَا هُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْت اَدِيْمِ السَّمَآئِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَ فِيْهِمْ تَعُوْد ( مشكوة كتاب العلم الفصل الثالث ) ان کے علماء آسمان کے نیچے پائی جانے والی مخلوق میں سے بدترین ہوں گے۔ان سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔حضور سالا السلام نے آخری زمانہ کے علماء کی جو تعریف بیان فرمائی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ایسے علماء بھی ہو سکتے ہیں جو بظاہر عالم ہوں۔لوگ ان کو عالم سمجھتے ہوں، وہ مسجدوں اور مدرسوں پر قابض ہوں مگر ان کا علم سے کوئی واسطہ نہ ہو بلکہ فتنہ انگیزی ہی ان کا شغل ہے ہی ان کا سعل ہو اور وہ جہاں جائیں وہاں فساد و افتراق کا باعث بنتے ہوں۔مذکورہ بالا خبر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں جو آئے دن ہنگامے ہوتے رہتے ہیں ، جلوس، ہڑتال، مار پیٹ، لوٹ مار قبل و آتش زنی کے جو 251