قسمت کے ثمار — Page 237
آواز کے دوسرے سرے پر اس نوجوان کی والدہ اس بات کو کس طرح سن رہی ہوگی اس کا کسی قدر اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔اس خاتون کو جب حضور ایدہ اللہ کے قادیان تشریف لانے کا پتہ چلا ہوگا تو سب سے پہلے تو خود قادیان جانے کی خواہش مچلی ہوگی مگر کسی غیر معمولی مجبوری کی وجہ سے،حالات یا صحت کی خرابی کی وجہ سے وہ جسمانی طور پر تو جلسہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل نہ کر پائی ہوگی مگر ذہنی طور پر تو شاید وہ اس نوجوان سے بھی زیادہ قادیان کے گلی کوچوں میں محبت وعقیدت سے گھومتی رہی ہوگی۔حضور کے چہرے کو دیکھ کر کس طرح صدقے داری جارہی ہوگی۔اس نوجوان نے اپنی تین چارمنٹ کی گفتگو میں یہ فقرہ ایک سے زیادہ دفعہ کہا ”امی حضور کا چہرہ۔۔۔وہ اس فقرہ کو مکمل نہیں کر سکتا تھا۔اس کو یہ یقین ہوگا کہ میرا یہ نامکمل فقرہ میری ماں کے لئے مکمل ہے اور وہ اس کو بخوبی سمجھ لے گی۔اس کی والدہ نے غالباً کسی بات کی طرف اشارہ کر کے اس سے پوچھا ہوگا کہ تم نے یہ بات حضور سے کہی تھی ؟ امی مجھے کچھ یاد نہیں رہا۔امی حضور کا چہرہ۔وہ نوجوان اپنی بات پوری کر کے باہر نکل گیا۔مجھے چاہئے تھا کہ اس کے پیچھے ہی باہر نکل جاتا اور اس کو گلے لگاتا۔حضور سے ملاقات کی مبارکباد دیتا اور اس کی ماں کو عقیدت بھر اسلام بھجواتا جس کے حسن تربیت نے بچے کے دل میں اسلام و احمدیت کی محبت، خلافت اور خلیفہ وقت کی عقیدت راسخ کر رکھی تھی۔لیکن میں ایسا کرنے سے محروم رہا جس کا وہاں پر بھی افسوس رہا اور آج بھی افسوس ہو رہا ہے۔اس نا قابل فراموش واقعہ کو میں اس کے بعد بہت دفعہ یاد کر چکا ہوں ، بہت دفعہ بیان کر چکا ہوں اور یہ بھی سوچتارہا ہوں کہ ماں کی مامتا تو ایسی بے کراں ہے کہ آج تک کوئی بھی اسے پوری طرح بیان نہیں کر سکا۔ماں کی مامتا دین العجائز کے خمیر میں گندھ جائے تو پھر اس کی مقصدیت اور جذ بہ قربانی کو بھی ناپانہیں جاسکتا۔وہ ایک ایسی طاقت بن جاتی ہے جو دنیوی خس وخاشاک 237