قسمت کے ثمار — Page 212
شرائط بیعت اور نظام وصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۸ء میں بار بار یہ خدائی خبر ملنے پر کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے جماعت کو تاکیدی نصائح کرتے ہوئے الوصیت کے نام سے ایک رسالہ شائع فرما یا اور اس میں خلافت احمدیہ اور ایک ایسے نظام کا خاکہ بیان فرمایا جو آئندہ دنیا کے مالی و اقتصادی نظام کی بنیاد بننے والا ہے اس نظام میں شامل ہونے والے جنہیں عام طور پر موصی کہا جاتا ہے، ان کے لئے حضور نے مندرجہ ذیل تین شرائط مقرر فرمائیں: پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کیلئے چندہ داخل کرے۔دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی دفن ہوگا جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا ہو اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔سچا اور صاف مسلمان ہو (روحانی خزائن جلد 20 رسالہ الوصیت ص 319) خدا تعالیٰ کے فضل سے نیکی اور تقویٰ کی خاطر قائم ہونے والی الہی جماعت میں شروع سے ہی نیکیوں پر دل و جان سے عمل پیرا ہونے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔نظام وصیت کو بھی جماعت نے بصدق 212