قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 207 of 365

قسمت کے ثمار — Page 207

کی طرف خاص توجہ دینے سے بہت سی برکات حاصل کرتے ہیں۔اس بابرکت تحریک میں شامل ہونے والا ہر خوش قسمت ایسے فوائد حاصل کرتا اور ایسے تجربات میں سے گزرتا ہے کہ وہ بار بار وقف عارضی کی برکات سے متمتع ہونے کی کوشش میں لگارہتا ہے۔حضور رسل السلام کی سنت طیبہ اور آپ کے منشاء مبارک کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ ہماری جماعت کی سیر و سیاحت تو وقف عارضی میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام وقف زندگی کو حیاتِ طیبہ اور ابدی زندگی کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: بات یہی ہے کہ لوگ اس حقیقت سے نا آشنا اور اس لذت سے جو اس وقف کے بعد ملتی ہے نا واقف محض ہیں۔ورنہ اگر ایک شمہ بھی اس لذت اور سرور سے اُن کو مل جاوے تو بے انتہا تمناؤں کے ساتھ وہ اس میدان میں آئیں۔میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے حظ اٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لئے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے۔پس میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دُکھ ہو گا تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رک نہیں سکتا۔اس لئے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچا دوں۔آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اُسے سُنے یا نہ سُنے ! اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلبگار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اُس درجہ اور مرتبہ کو 207