قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 19 of 365

قسمت کے ثمار — Page 19

واردات کا آئینہ ہیں۔ان مضامین کا الفضل جیسے معتبر اخبار میں شائع ہونا ہی مقبول عام ہونے کی سند ہے۔خاکسار نے سرسری طور پر کہیں یہ لکھ دیا ہے کہ اس خاندان میں ایک سے ایک بڑھ کر مشاق اور منجھے ہوئے مصنفین کی ایک کہکشاں ہے اور یہ سب کچھ حضرت سلطان القلم کے اعجاز کا کرشمہ ہے۔یہ بات ایک مختصر سے نوٹ کا تقاضا کرتی ہے۔برادرم و مکرم عبد الباسط صاحب شاہد کی ہمشیرہ مکرمہ محترمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ، جن کی جماعت کے علمی طبقہ میں بڑی شہرت ہے، کے متعلق سیدنا حضرت اقدس خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: للہ تعالی آپ کو خدمات دینیہ کے مقام محمود عطا فرمائے۔“ اور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ ساتھ ہو اور سلطان القلم کے فیضان سے آپ کا قلم برکت پذیر رہے۔آمین۔“ انشاء اللہ العزیز خلفاء کرام کی ان دعاؤں کے فیض سے خاندان ہرسیاں کی روز قیامت تک کی نسلیں مستفیض ہوتی رہیں گی۔محترمہ امتہ الباری ناصر صاحبہ کو صد سالہ جشن تشکر کے سلسلہ میں کم از کم سو کتب کی اشاعت کے منصوبہ پر کام کرنے کی توفیق ملی جو کہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔آپ جماعت کی پائے کی نثر نگار اور میدان شعر وسخن کی شاہسوار ہیں۔خاکسار کے ناقص علم میں لجنہ اماءاللہ کی تاریخ میں آپ سب سے پہلی شعر و سخن اور نثر کی کہنہ مشق نقاد خاتون ہیں۔آپ خود متعدد کتب کی مصنفہ ہیں اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے رسائل میں آپ کے مضامین اور منظوم کلام پڑھ کر ہم سب لطف اندوز ہوتے ہیں۔آپ موصوف کی دوسری ہمشیرہ جو نائب مدیر روز نامه الفضل مکرمی شیخ خورشید احمد صاحب مرحوم کی زوجہ محترمہ امتہ اللطیف صاحبہ ہیں۔آپ مسلسل آٹھ سال تک لجنہ اماء اللہ