قسمت کے ثمار — Page 190
ہے تو اس کا مطلب یہ ہے آپ کو اس ٹرین پر جانا ہوگا جو سمجھوتا ایکسپریس کے نام سے مشہور ہے اور آجکل ہفتہ میں دو دن چلتی ہے۔یہ تجربہ بھی نا قابل فراموش تھا۔گاڑی کب آئے گی ، کب چلے گی ، کتنا عرصہ سٹیشن پر کھڑی رہے گی، کسی کو بھی معلوم نہ تھا۔مسافر، گاڑی کی وسعت و گنجائش سے زیادہ ہیں یا کم، یہ سی کا درد سر نہ تھا۔البتہ یہ ضرور تھا کہ جب تک آخری مسافر اپنے بے حساب سامان کے ساتھ امیگریشن اور کسٹم کے مراحل سے گزر نہ جائے گا اس وقت تک گاڑی میں بیٹھے ہوئے مسافروں کو انتظار میں اس طرح وقت گزارنا ہوگا کہ نہ بیٹھنے کی جگہ ملے گی اور نہ ہی کھانے پینے کا کوئی معقول انتظام ہوگا۔ان مراحل کی مشکلات اور صبر آزمائی کا اندازہ اسی شخص کو ہوسکتا ہے جو یہ سب کچھ خود بھگت چکا ہو۔مختصر یہ کہ لاہور سے قادیان بلکہ زیادہ معین طور پر اٹاری اور لاہور کا رستہ جو عام حالات میں چند منٹ کا رستہ ہوتا ہے ہم نے پندرہ گھنٹے میں طے کیا۔ہمارے پاس سامان کم تھا اس لئے امیگریشن اور کسٹم کے نہایت بے نظم وضبط مراحل نسبتاً جلدی ہو جاتے رہے اور گاڑی میں بیٹھ کر یہ خیال بھی ضرور آتارہا کہ مسیح پاک کو جو بتایا گیا تھا کہ لوگ دشوار گزار رستوں سے قادیان میں آیا کریں گے ان میں یہ دشواریاں بھی تو شامل ہوں گی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان کی زیارت کی سعادت سے جو خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے وہ مذکورہ بالا تکلیف دہ مشکل امور کو بھلانے یا نظر انداز کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ان تکالیف اور نا خوشگوار یادوں کو شکر گزاری میں تبدیل کرنے کا ایک اور سامان بھی قادیان میں با افراط نظر آیا۔جب یہ دیکھنے میں آیا کہ بعض عشاق نہایت غربت کی حالت میں ، قادیان کی سردی اور موسم کے لحاظ سے بہت ہی ناکافی کپڑوں میں ملبوس تین تین چار چاردن کا سفر کر کے ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے جلسہ میں شمولیت کی سعادت حاصل کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں تو اپنی مشکلات اور کوفت بھول کر ان خوش قسمت مومنوں پر رشک آنے لگا جو محض اللہ اس ربانی تقریب میں شمولیت کے لئے اتنی قربانی کر کے وہاں پہنچے تھے۔خاکسار کوحرمین شریفین مکہ اور مدینہ کی زیارت کی سعادت بھی حاصل ہو چکی ہے۔تمام فیوض 190