قسمت کے ثمار — Page 179
انبیاء کی مخالفت کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ فرماتے ہیں: ”ہاں یہ ضرور ہے کہ مخالف بھی ہوں کیونکہ سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر شخص جو خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے اس کے لئے امتحان ضرور رکھا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت: 3-2) امتحان خدا کی عادت ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ عالم الغیب خدا کو امتحان کی کیا ضرورت ہے؟ یہ اپنی سمجھ کی غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ امتحان کا محتاج نہیں ہے، انسان خود محتاج ہے تا کہ اس کو اپنے حالات کی اطلاع ہو اور اپنے ایمان کی حقیقت کھلے۔مخالفانہ رائے سن کر اگر مغلوب ہو جاوے تو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قوت نہیں ہے۔۔۔۔خدا کا امتحان یہی ہے کہ انسان سمجھ جاوے کہ میری حالت کیسی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مامور من اللہ کے دشمن ضرور ہوتے ہیں جو ان کو تکلیفیں اور اذیتیں دیتے ہیں ،تو ہین کرتے ہیں۔ایسے وقت میں سعید الفطرت اپنی روشن ضمیری سے ان کی صداقت کو پالیتے ہیں۔پس مخالفوں کا وجود بھی اس لئے ضروری ہے جیسے پھولوں کے ساتھ کانٹے کا وجود ہے۔۔جس کو خدا نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے وہ کسی کی کوشش سے نابود نہیں ہوسکتا۔رسول اللہ لا یا ایہام کا کس قدر عظیم الشان معجزہ ہے کہ ہر طرف سے مخالفت ہوتی تھی مگر آپ سائی یتیم ہر میدان میں کامیاب ہی ہوتے تھے۔صحابہ نبی الھند کے لئے یہ کیسی دل خوش کرنے والی دلیل تھی جب وہ اس نظارے کو دیکھتے تھے۔اسلام کیا ہے؟ بہت سی جانوں کا چندہ ہے۔ہمارے آباء واجداد چندہ ہی میں آئے۔اب اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ وہ اسلام کوگل ملتوں پر غالب کرے۔اس نے مجھے اسی مطلب کے لئے بھیجا ہے اور اسی طرح بھیجا ہے جس طرح پہلے مامور آتے رہے۔پس آپ میری مخالفت میں بھی بہت سی باتیں سنیں گے 179