قسمت کے ثمار — Page 177
عزت وذلت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں م خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے انبیاء دنیا پر یہ ظاہر و ثابت کرنے کے لئے آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ موجود ہے۔ان کے استقلال ، توکل اور اعلیٰ اخلاق و کردار سے دنیا کو خدا تعالیٰ کی صفات اور طاقتوں کا ثبوت ملتا ہے۔سچ اور جھوٹ یا حق و باطل کا مقابلہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے بالعموم بظاہر کمزور اور دنیوی شان و شوکت سے محروم ہوتے ہیں مگر ان کی مخالفت کرنے والے اپنی طاقت ، مال و دولت ،ساتھیوں اور مددگاروں کی کثرت کی وجہ سے اپنی کامیابی یقینی سمجھتے ہیں۔حق وصداقت کی نتیجہ کامیابی کی عظمت اسی وجہ سے زیادہ اور نمایاں ہو جاتی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ وقت کے ایک ایسے جابر حکمران سے ہوا جو اپنے آپ کو آنا رَبَّكُمُ الأعلى سمجھتا تھا جبکہ حضرت موسیٰ علم تو پلے بڑھے ہی اس کے گھر میں تھے۔فرعون نے یقینا یہی سوچا ہوگا کہ ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والا یہ کمزور و بے یار و مددگار انسان کس طرح اپنے بلند مقصد میں کامیابی کا منہ دیکھ سکتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ کی مشکلات میں یہ امر بھی ضرور اضافہ کا باعث ہوتا ہوگا کہ ان کی قوم کے افراد بھی ہر مشکل وقت میں حضرت موسیٰ علیسلام کا ساتھ دینے کی بجائے انہیں مورد الزام ٹھہرانے لگ جاتے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے والے اپنے وقت کے سب سے زیادہ بااثر اور بارسوخ لوگ تھے۔وہ صرف مذہبی لحاظ سے ہی نہیں ، 177