قسمت کے ثمار — Page 165
اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد بربان محمد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریوں اور عیسائیوں کی دلآزاریوں اور ہرزہ سرائیوں کے جواب میں جو کتب تحریر فرمائی ہیں وہ اسلام اور آنحضرت صلای اینم کی شان کو ظاہر و ثابت کرنے کے لئے ایسالا جواب کارنامہ ہے جسکی عظمت کا اعتراف حضور کے مخالفوں نے بھی کیا اور آج بھی احمد یہ علم کلام کا قابل فخر نمونہ ہے۔حضرت مصلح موعود بنی ان کے زمانہ میں بعض ایسی دل آزار کتابیں شائع ہوئیں تو مسلمانوں میں شدید رد عمل ہوا لیکن اس رد عمل اور غم وغصہ نے ایسی صورت اختیار کر لی جس میں لاقانونیت اور خون خرابہ شامل ہو گیا۔حضور نے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ ہمیں کسی حالت میں بھی اسلامی اخلاق کو نظر انداز کر کے غلط راستہ پر نہیں جانا چاہئے بلکہ اپنے غم وغصہ کو اس طرح ظاہر کرنا چاہئے کہ اس میں بھی صاحب خلق عظیم کے اسوہ حسنہ کی جھلک نظر آئے۔حضرت مصلح موعود بنا لون نے یہ بھی فرما یا کہ آنحضرت صلی یا یہ تم پر ایسے غلط اور بے سروپا الزامات لگائے جانے میں مسلمانوں کا بھی کسی قدر دخل ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ ومطہرہ کولوگوں تک پہنچایا ہی نہیں ہے۔اگر ہم سیرت کو بیان کریں اور لوگوں کو پتہ چلے کہ حضور صلی یتیم اخلاق فاضلہ کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں تو ایسے دریدہ دہن معترضوں کی بات سننے کے لئے کوئی تیار نہ ہوگا اور ان کی باتوں کاسی پرکوئی اثر نہ ہوگا۔حضور پائینہ کی استحریک پر ہندوستان میں سیرت کے جلسوں کا آغاز ہوا۔ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اپنے حالیہ خطبات میں عشق رسول ملالہ اسلام کے تقاضوں کو نہایت موثر رنگ میں بیان کرتے ہوئے سیرت مقدسہ بیان کرنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی تاکید فرمائی ہے۔کیونکہ سیرت کوصرف پڑھنے یا بیان کرنے سے تو اصل فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ہم اپنے عظیم الشان پیغمبر کے پیغام 165