قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 26 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 26

۲۶ اللہ تعالے نے عورت کو ایسا ہی حصہ دیا ہے جیسا کہ مرد کو اور دونوں پر بعض فرائض اور ذمہ داریاں عاملہ ہوتی ہیں۔بعض مرد اس مسئلہ کو نہیں سمجھتے وہ سمجھتے ہیں کہ الرجال قوامون على النار کے ماتحت عورتوں پر حاکم ہیں حالانکہ ان کو در خبر نگرانی کا بلا ہے مگر نگرانی سے حریت میں فرق نہیں پڑتا۔بادشاہ نگران ہوتا ہے۔خلیفہ نگران ہوتا ہے اسی طرح حاکم وقت نگران ہوتا ہے مگر کیا کوئی حکم یا قانون یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ جو پا میں معاملہ نہیں بنجران تو اس بات کا ہوتاہے کہ دیتا دن جو حق اس کو ملا ہے، اسے وہ شریعت کے احکام کے مطابق استعمال کی ہے۔نہ یہ کہ جو چاہے کرے۔نگران کا مفہوم یہ ہے کہ اس کو شریعت کے ماتحت چلائے مگر ہمارے ہاں اس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ جو چاہا کہ لیا۔اس وجہ سے بعض لوگ عور توں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔وہ ان کو گائے بکرمی سمجھتے ہیں اور عورتوں پر جبر یہ حکومت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ایسی حکومت تو خدا بھی نہیں کرنا۔وہ تو کہتا ہے تم وہی کہو جو تمہاری غیر کہتی ہے۔پھر خدا بھی بغیر اتمام حجت کے سزا نہیں دیتا۔با وجود اس بات کے کہ وہ مالک ہے تو پھر مرد کے مقابلہ میں عورتوں کو آزادی ضمیر کیوں حاصل نہیں۔راس کے بر خلاف دوسری حدیبی خطر ناک ہے جو عورتوں کی طرف سے ہے قوامون کا لفظ بھی آخر کسی حکمت کے ماتحت ہے۔یہ قانون خدا کا بنایا ہوا ہے جو خود نہ مرد ہے نہ عورت اس پہ حرف داری کا الزام نہیں آسکتا۔پس ایسی ہستی کے قوانین نشانی ہو سکتے ہیں۔عورت عموما عورت کی طرف دارہ ہوتی ہے اور مرد کے طرف دارہ مرد۔مگر خدا کو دونوں کا پاس نہیں۔وہ خالق ہے جو طاقتیں اس نے مرد کو دی ہیں ان کا اس کو علم ہے اور انہی کے ماتحت اس نے اختیارات دیئے ہیں۔قوموں کے بہر حال کوئی معنے ہیں جو عورت کی آزادی اور حریت تغیر کو باطل نہیں کرتے اس کے لئے عورت کے افعال، اس کے امداد ہے۔اس کا دین و مذہب قربان نہیں ہو سکتے مگر تو امون بھی قربان نہیں ہوسکتا۔نہ اس کا وجود وہی ہو۔قوام نظر آنا چاہیئے