قواریر ۔ قوامون — Page 78
مارنے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ضربا غير مبرح ایسی مار ہو جو کی ہو۔ایسی نہ ہو کہ جسم پر نشان پڑ جائیں اور چہرہ پر مارنے سے سختی سے منع فرما دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ولا تضرب الوجکے۔کہ اسے چہرے پر نہ مارنا۔میاں بیوی تو اپنےاپنے اور میں اکر یں اور پوچھے جائیں گے وہیں ہیںاور باب خوا أَنفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُو نَاراً۔اپنے بیوی بچوں کو جہنم سے بچاؤ۔١٧٣- حدثنا أبو النحمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّاد بن زيد من الوبَ عَن نَافِ عَنْ عَبدِ اللهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله NAKANGUAGE NAKANGANALEK : عدم مسول فَالاِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْكُولُ وَ الرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهلِهِ وَهُوَ مَسْكُول والمرأة داعية على بَيْتِ ذَهُ جِهَا وَهِي مسئولة والعبد دَاء عَلى مَالِ سَيْدِهِ وَهُوَ مَسئول الانكم رَاعٍ وَكُكُم مستوك۔حضرت عبد الله عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ر تم میں سے ہر شخص حاکم سے اور ہر ایک سے پوچھا جائے گا یہیں امام (بادشاہ) حاکم ہے اور اس سے (یعیت کے متعلق) پوچھا جائے گا۔ہر شخص اپنے اہل وعیال کا حاکم ہے اور ان کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا۔عورت اپنے خاوند کے گھر میں حاکم ہے اس سے پوچھا جائنگے غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اس سے اس بارے میں پوچھا جائے گا پس تم میں سے ہر ایک حاکم ونگران ہے اور ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔(بخاری شریف کتاب النکاح )