قواریر ۔ قوامون — Page 76
عورتوں کو مارنے کا بیان بات ضُرب النساء ۲۰۵۳ حدثنا ابوب كون ابي شيد عبد الله ابن مسيرتنا حَدَّثَنَا كُرِ بن عَبْدُ هشام بن عروة عَنْ أَبِيهِ عَن عَبدِ اللهِ ابْنِ نَمعَه قَالَ كتاب النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُذكر النِّسَاء فَوَعَظهُمْ فِيهِنَّ تُوَقَالَ إِلَى مَا جلد اَحَدُكُ امرات، جلد الامة ولعله أن يضاجعها ) من أخرکیه ( صحیح بخاری شریف) أَخِرِ ابن ابی شیبه، این نمین شام، عروہ، عبد اللہ بن زمعہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیک سلیم نے خطبہ دیا پھر عورتوں کا ذکر کیا اور ان کے بارے میں نصیحت کی اور تم لوگ باہی کی طرح عورتوں کو مارتے ہو حالا کے ہوسکتا ہے کہ تم آخر دن میں اس کے ساتھ ہم بستر بھی ہو۔۲۰۵۴ حدثنا ابو بكر بن ابي شَيْبَةٌ تَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرُوةً عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خاد مال و لا امرأَةٌ وَلاَ ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا۔رسنن ابن ماحبه ابن ابی شیبہ، وکیع ، ہشام، عروہ ، عائشہ فرماتی ہیں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اپنے کسی خادم کی، نہ بیوی کو اور نہ کسی اور کو اپنے دست اقدس سے مارا عورتوں کو کہاں تک بدنی سزا دی جاسکتی ہے با ما يكره من ضَرْبِ النِّسَاء وَقَوْلِهِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضر با غير مبرح