قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 74 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 74

وهو دون الركوعِ الأولِ وَ سَجَدَتَهُ قَامَ فَقَامَ يا ما طويلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأولِ ثُمَّ ذَكَعَ تَكُو عا طويلا وهو دون النوع الاول KALANGAN TALENT فَقَامَ قِيَا مَا طَوِيلًا وَ هُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ تُو رَكَعَ رَكُوعًا طويلًا وَهُودُونَ فقال إن الشمس والقمر ايشان من آيات الله لا يَنفَانِ نِعوت أحدو لا لحياتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُم ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَا وَلتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هُذَا ثُمَّ دَيْنَاكَ تَكَعَلَعْتَ فَقَالَ إِني رايت الجنة او اريت الحنة۔۔۔۔فَتَنَادَلْتُ مِنْهَا عن اودا ولو اخذته لا كلتُم مِّنْهُ مَا بَقِيتِ الدُّنْيَا وَرَاتُ النار فلم انك اليوم منظر قارات الكواهلها الشتاء قالوية يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ يحذر من قبل مدفون باللَّهِ قَالَ يَكْفُونَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرُنَ الْإِحْسَانَ لَوَالحَسَنتَ إلى الحدُهُنَّ الدهرَ ثُمَّ رَت مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنكَ خَيرا قط صیح بخاری شریف) حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلیم نے نما نہ پڑھی اور لوگ آپ کے ساتھ تھے۔نہیں آپؐ نے طویل قیام کیا ، جتنی دیر میں سورہ البنقره پریمی جاتی ہے، پھر طویل رکوع کیا، پھر اٹھے اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔طویل۔کوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم طویل تھا۔پھر سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے اور کافی دیر تک قیام کیا لیکن پہلے قیام سے محفر تھا۔پھر طویل رکوع کیا اودہ پہلے رکوع تبتنا طویل نہ تھا۔پھر کھڑے ہو کر طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے قدرے کم تھا اور طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے مختصر تھا۔پھر کر مبارک کو اٹھا کر سجدہ کیا اور فارغ ہو گئے اور سورج روشن ہو چکا تھا۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالے کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔انہیں کسی کی مورت یا نہ ندگی کی وجہ سے بہن نہیں لگتا۔جب تم گہن دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔لوگوں نے عرض کی یارسول اللہ ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ اپنی جگہ سے کسی چیز کو لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا اور پھر ہم نے دیکھا کہ آپ نے دست مبارک بلا لیا۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ میں نے جنت رکھی یا مجھے جنت دکھائی گئی تو مں نے انگوروں