قواریر ۔ قوامون — Page 62
میں نے ضروری سمجھا کہ آپ جیسے ریشیدا در رسعید کو اس تاکید سے کسی قدر اطلاع کروں۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔عاشرِ وهُن بالمعروف یعنی اپنی بیویوں سے تم ایسے معاشرت کرو۔جس میں کوئی امر خلاف معروفہ کے ہو اور کوئی وحشیانہ حالت نہ ہو۔بلکہ ان کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خَيْرُكُ خَيْرُكُهُ لاَھلِ یعنی تم میں سے بہتر انسان وہ ہے۔جو بیوی سے نیکی سے پیش آئے اور حسن معاشرت کے سنے اس قدر تاکید کی ہے کہ میں اس خط میں لکھ نہیں سکتا۔عزیز من انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالہ کر دیا۔اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر ایک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔نرمی برتنی چاہیے اور سر تک وقت ردل میں یہ خیال کرنا چاہیے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے۔جس کو فی التخانے نے میرے سپرد کیا ہے۔اور وہ دیکھ رہا ہے۔کہ میں کیونکہ شرائط مہمان داری بجا لاتا ہوں اور نہیں ایک خدا کا بندہ ہوں۔اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے۔مجھے اس پر کونسی زیادتی ہے۔خونخواہ انسان نہیں بننا چاہیے۔بیویوں پر رحم کرنا چاہیے۔اور ان کو دین سکھانا چاہیے۔در حقیقت میرا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کا امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے۔ہمیں جب کبھی اتفاقا ایک ذرہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صد با کوس سے میرے حوالہ کیا ہے۔شاید معصیت ہو گی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔تب کہیں ان کو کہتا ہوں کہ تم نماز میں میرے لئے دعا کرو۔کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالے ہے تو مجھے معاف فرما دیں اور میں بہت ٹورتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔سو میں اُمید سر کھتا ہوں کہ آپ کبھی ایسا ہی کریں گے سید مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلام کس قدر اپنی بیویوں سے علم کہتے تھے۔زیادہ د الحكم جلده ۱۶ مورخه ما در اپریل ۱۹۰۵ء ملام کیا لکھوں۔اپنی بیویوں کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کونظرانداز کریں عورت اس چیز کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتی کہ قرآن کریم نے اس پر کتنا بڑا احسان کیا ہوا