قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 14 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 14

۱۴ ضروری الفاظ قُومُونَ۔(نگران) ماخذ ہے۔قام فعل ہے یعنی وہ کھڑا ہوا “ کہا جاتا ہے۔قام علیہ یعنی اس نے خبر گیری کی۔یا نگرانی کی۔قام بالیتیم کا مطلب ہے کہ اس نے تقیم کی پرویش کی۔قام علی المرة یعنی اس نے عورت کے نان نفقہ۔روٹی کپڑے کا ذمہ لیا۔اس نے عورت کے امور یا معاملات کا انتظام سنبھالا۔اس نے اس کی حفاظت کی یا وہ عورت کا نگران سرپرست یا محافظ بنا قوم الشيئ " کا مطلب ہے کہ اس نے اس پیز کو صحیح کیا یا اس کو سیدھا اور ہموارہ کیا چنانچہ قوام کا مطلب ہوا۔جو کوئی معاملات کو سنبھاتا ہے حکمران۔فرمانروا۔ناظم کوئی ایسے منصب پر ہو جو انتظام یا اہتمام کرنے کے لئے حکم دے۔را قرب الموارد اور LANE) قومون قوام کی جمع ہے جو قیام سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔عربی زبان میں قام الرجل علی المراۃ کے معنے ہوتے ہیں۔ماتھا۔اس کی موونت یا روزی بہتا کی۔قوام علیہا کے معنی ہیں مائیں تھا۔یعنی عورت کی روزی مینیا کرنے والا۔اور الرجال قومون عَلَى النِّساء کے معنے ہیں مُتَكَقِلُونَ بِأَمُورِ النِّسَاء لَيَعْنِيُّونَ بُرُ نِهِنَّ یعنی عورت کے متکفل ان کے حالات کے متعلق توجہ کرنے والے (لسان العرب) اور تاج العروس میں ہے۔قامَ الرجل المرأة اور قام علیہا کے معنے ہیں۔مانها وَقَامَ إِشَانِهَا مُتَكَقِلَا بِأَمْرِهَا۔یعنی اس کی مومنت یا روزی جہتیا کی اور اس کے امر کی کفالت کرتے ہوئے اس کی حالت کو قائم کیا۔اور قوائم علیھا کے معنے مائِن نَّهَا دیئے ہیں۔اس کے لئے روزہی مہیا کرنے والا۔اور اس امر کا متکفل۔ذمہ دار۔پس قوام کے معنے متکفل نہیں محض محافظ یا حاکم درست نہیں۔فننت - (فرمانبردار - اطاعت شعار) یہ قانتة کی جمع ہے اور فعل معروف حنت سے کہا جاتا ہے۔قنت الله یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار تھا۔امراة قنوت یعنی ایک عورت منکسر مزاج - عاجہ - اطاعت گزار۔فرمانبردار اپنے شوہر کی LANE - اور دیکھیں سورۃ البقرہ آیت ۱۱۷)۔