قواریر ۔ قوامون — Page 87
AC آپ کا اپنا طریق یہ تھا۔کہ جب سفر سے واپس آتے تھے۔تو دن کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے۔اگر رات آجاتی تھی۔تو باہر ہی ڈیرہ ڈال دیتے تھے۔اور صبح کے وقت شہر میں داخل ہوتے تھے۔اور ہمیشہ اپنے اصحاب کو منع فرماتے تھے۔کہ اس طرح اچانک گھر میں آکر اپنے اہل و عیال کو تنگ نہیں کرنا چاہیئے۔(بخاری موسلم) اس میں آپ کے مد نظر یہ حکمت تھی کہ عورت اور مرد کے تعلقات جذباتی ہوتے ہیں مرد کی غیر حاضری میں اگر عورت نے اپنے لباس اور جسم کی صفائی کا پورا خیال نہ رکھا ہو۔اور خاوند اچانک گھر میں آداخل ہو۔تو ڈر ہوتا ہے۔کہ وہ محبت کے جذبات جو مردد عورت کے درمیان ہوتے ہیں۔ان کو کوئی ٹھیس نہ لگ جائے۔پس آپ نے ہدایت فرما دی۔کہ انسان جب بھی سفر سے واپس آئے۔دن کے وقت گھر میں داخل ہو۔اور بیوی بچوں کو پہلے خبر دے کہ داخل ہو۔تاکہ وہ اس کے استقبال کے لئے پوری تیاری کرلیں۔ر ترجمه از دیباچه تغییر القرآن انگریزی) عورتوں کے جذبات کا اتنا خیال تھا۔کہ ایک دفعہ نماز میں آپ کو ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو آپ نے نماز جلدی جلدی پڑھا کر ختم کر دی پھر فرمایا۔ایک بیٹھ کے رونے کی آواز آئی تھی۔لیکں نے کہا اس کی ماں کو کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی۔چنانچہ میں نے نمازہ جلدی ختم کر دی۔تاکہ ماں اپنے بچور کی برگیری کرسکے۔(بخاری کتاب الصلاة) قوارير - قوامون (طبع دوم) شماره 2 تعداد ایک ہزار