قواریر ۔ قوامون — Page 75
کے ایک گھنے کو لینے کے لئے ہاتھ بڑھائے تھے۔اگر میں اسے سے لیتا تو رہتی دنیا تک تم اس سے کھاتے رہتے۔میں نے جہنم کو دیکھا اور آج جیسا دردناک منظر پہلے بالکل نہیں دیکھا تھا اور میں نے اس میں اکثر عورتوں کو دیکھا۔لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ کس لئے ؟ فرمایا ان کے کفر کے باعث عرض کی گئی کہ کیا یہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ فرمایا۔وہ خاوند کی ناشکر می اور احسان فراموشی کرتی ہیں اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ عمر بھر بیٹی کرتے نہ ہو۔پیپر تم سے کو ئی ذراسی تکلیف پہنچ جائے تو کہتی ہے کہ میں نے تمہاری طرف سے کوئی بھلائی قطعا ر کھی ہی نہیں۔جنت میں فلس آدمی اور جہنم میں عورتیں زیادہ ہوں گی باك۔ا حَدَّثَنَامُ تَدْحَدَّثَنَا المَاجِيلُ الحَونَا اللَّيْيُّ عَن أبي عثمان من أسَامَةَ عَنِ النّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَكَانَ عَامَّة مَن دَخَلَها المَسَالِينَ وَاَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ يوان الشب الناري أمريهِمْ إِلَى النَّارِ وَقُمتُ عَلى بَابِ النارِ فَاذَا عَامَّةٌ مَن دَخَلَها النساء (صحیح بخاری شریف) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا ( معراج کی رات میں) تو اس میں داخل ہونے والے زیادہ تر غریب لوگ تھے اور مالداروں کو رداخل ہونے سے) روک دیا گیا تھا جب کہ نہ یوں کو ابھی جہنم میں جانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور میں دوزخ کے دروازہ سے پر کھڑا ہوا تو اس میں اخل ہونے والوں میں اکثر عور نہیں تھیں۔