قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 15 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 15

15۔i۔ii۔iii مخرج نمبر 14: ب، م اور دو کی ادائیگی ب میں آواز شفتین کے تر حصہ سے نکلتی ہے۔اسے ادا کرتے وقت آواز بند ہو جاتی ہے۔شفتین کے تر حصہ سے نکلنے کی وجہ سے اسے "بحری " بھی کہتے ہیں۔م میں آواز شفتین کے خشک حصص کے اتصال سے نکلتی ہے۔اس وجہ سے اسے "بڑی " بھی کہتے ہیں۔و کی ادائیگی شفتین کے نا تمام اتصال سے ہوتی ہے۔شفتین گولائی کی صورت میں درمیان سے کھلے ہوتے ہیں اور دانتوں سے اتصال نہیں ہوتا۔شفتین سے ادائیگی کی وجہ سے ب، م اور و کو حروف شفویہ بھی کہتے ہیں۔مخرج نمبر 15: ر کی بوائیگی ر کی ادائیگی نوک لسان کی پشت ثنایا علیا کی جڑ پہ ٹھہرنے سے ہوتی ہے۔گویا نوک اسان اقصٰی حلق کی طرف مڑتی ہے۔۔i۔ii۔iii کہ اور ڑ میں تفخیم یا پُر کر کے پڑھی جاتی ہے۔ژ ( رساکنہ ) سے قبل اہو ( حرکت یا حرکت کے بغیر یا کوئی تفخیم والا حرف ہو، تو یہ ر بھی تنظیم سے پڑھی جائے گی۔باقی ہر جگہ ر باریک پڑھی جائے گی۔مخرج نمبر 16 : عنہ کی ادائیگی ناک میں آواز ٹھہرا کر ادا کرنے کو عنقہ کہتے ہیں۔اس کا طریق یہ ہے کہ آواز ناک کے بانسہ میں لے جا کر واپس لائی جائے، تو اتنی دیر میں غننہ کی ادائیگی ہوتی ہے۔آواز کی ادائیگی میں نرمی ہوتی ہے، جس سے تلاوت میں حسن پیدا ہوتا ہے۔عقبہ کی ادائیگی خیشوم سے ہوتی ہے۔ن مشدد اورم مشدد میں غنہ کی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح م ساکنہ کے بعدب متحرک آئے توم پہ آواز کو ٹھہر اکے لمبا کیا جاتا ہے تاکہ عغننہ نمایاں ہو۔(مزید وضاحت آگے اقلاب اور اخفاء میں آئے گی۔) i۔ii۔iii