قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 3 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 3

3 تجوید کیا ہے؟ 1 - تجوید اور تلاوت کے انداز تجوید کے لغوی معنی خو بصورت یا التحسین " کے ہیں۔تجوید القرآن کا مطلب ہے قرآن مجید کو خوبصورتی سے، یا اچھی طرح سے پڑھنا۔تجوید سے مراد حروف کی عمدگی سے ادائیگی اور معرفت و قوف (کہاں اور کس جگہ وقف کیا جائے) ہے۔تلاوت کے انداز تلاوت کے تین بنیادی اند از درج ذیل ہیں : (1) ترتیل ٹھہر ٹھہر کے ، اطمینان سے ، ترنم کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کو ترتیل کہتے ہیں۔آنحضرت علی کم تر تیل سے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔آپ نے اس طرز تلاوت کو پسند فرمایا ہے۔2) تدویر (3 ٹھہر ، ٹھہر کے پڑھنے اور تیزی سے پڑھنے کے درمیانی انداز کو تدویر کہتے ہیں۔عمومی طور پہ نماز میں تدویر سے پڑھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ تدویر ترجمہ پر غور کرنے کے وقت کام آتی ہے۔حدر جلدی، جلدی اور سرعت سے پڑھنے کو حدر کہتے ہیں۔بعض حفاظ کرام تراویح میں حدد سے پڑھتے ہیں۔قواعد تجوید کے خلاف پڑھنے کو لحن کہتے ہیں۔لحن کی دو اقسام ہیں : 1) لحن جلی فتہ ، کسرہ یا ضمہ کی آواز کو قواعد کے خلاف لمبا کرنے (یا نہ کرنے) کی نمایاں اور اہم غلطیاں لحنِ جلی کہلاتی ہیں۔2 لحن خفی نسبتاً کم درجہ کی، معمولی غلطیاں مثلاً لام جلالہ کو تفخیم سے (یا پُر کر کے نہ پڑھنا۔ایسی غلطیاں لحن خفی کہلاتی ہیں۔تقیم: پر کر کے، موٹا پڑھنے کو تفخیم کہتے ہیں۔ترقیق باریک یا پرنہ کر کے پڑھنے کو ترقیق کہتے ہیں۔(ترقیق ضد ہے تفخیم کی)