قواعد ترتیل القرآن — Page 49
(5 (6 (4 انْحِرَافِ 49 49 انحراف کا مطلب ہے ایک طرف ہو جانا۔ل اور ر دو حروف ہیں جن میں یہ صفت پائی جاتی ہے۔ر کی ادائیگی میں زبان کی پشت کی طرف میلان پایا جاتا ہے۔اور ل کی ادبیگی میں زبان کے کنارے کی طرف مائل ہوتی ہے۔امثال قرآنیه : فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ (6:6) أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ (6:7) إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا(10:5) تَكْريْر تکریر کے معنی تکرار یا دہرانے کے ہیں۔یہ صفت رمیں ہے۔قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهْنَ الْعَظْمُ مِنِّي (19:5) اس کی ادائیگی میں احتیاط چاہیے ہے تاکہ تلفظ میں غلطی نہ ہو۔مثلاً مر ، مرز نہ بن جائے۔امثال قرآنیه : كِرَامًا كَاتِبِيِّنَ(82:12) تفشی کے معنی ہیں پھیل جانا۔یہ صفت صرف ش میں ہے۔الْقَارِعَةُ (101:2) اس کی ادائیگی میں آواز منہ میں پھیل جاتی ہے۔امثال قرآنیه : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَهُ تَفْصِيلًا (17:13) فَأَتْبَعُوهُمْ مُّشْرِقِيْنَ(26:61)