قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 36 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 36

۔ii۔iii۔iv۔V وقفہ 36 اس موقعہ پر رکتے ہوئے، سکتہ سے زیادہ رکنا ہے۔البتہ سکتہ کی طرح سانس نہیں ٹوٹتا۔مثلاً وقفة وقفة وقفة وَ اعْفُ عَنَّا للهِ وَ اغْفِرْ لَنَا الله وَارْحَمْنَا اللّهِ أَنْتَ مَوْلُينَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ وقف یہاں پڑھتے وقت آیت یا آیت کا حصہ پڑھ کر ٹھہرنا ہے، اور نئے سانس سے آگے تلاوت کو جاری رکھنا ہے۔معالقه معانقہ * کی علامت پر قاری کو اختیار ہے کہ پہلی علامت پر وقف کرے یا بعد میں آنے والی علامت پر وقف کرے۔مثلاً ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ آیت کا اختتام 0 یہ وقف اصل وقف ہے۔اکثر علامات و قوف قاری کی ضرورت کے مطابق ہیں۔یہ علامت آیت کے اختتام پہ آتی ہے۔جب اس علامت پر نا ہو تا تور کوع کے اختتام کی نشاندہی ہوتی ہے۔جب اس علامت کے اوپر لا یا صلے یاق کی علامت ہو تو قاری کراختیار ہے کہ وقف کرے یانہ کرے۔وقف کے بعد آگے آنے والا لفظ فتحہ ، ضمہ یا کسرہ سے شروع ہو تو عام قواعد کے مطابق قراءۃ ہو گی۔وقف کے بعد اگر پہلا حرف مشدد ہو تو تشدید کو کالعدم سمجھ کر معمول کے مطابق قراءۃ ہو گی۔مثلاً البقرة 2:287 البقرة 2:3