قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 35 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 35

۔X۔xi (2۔i 35 اگر آخری حرف پہ فتحہ ہو اور اس فتحہ کے بعد ایسی کی ہو جو پڑھنے میں نہیں آتی، تو وقف کرنے کی صورت میں یہ فتحہ اشباعیہ بن جائے گی۔مثلاً الْأَعْلَى الْأَشْقَى الْأَعْلَى الأشقى اگر آخری حرف پر تشدید ہو تو حرکت ختم ہو جائے گی مگر تشدید بر قرار رہے گی۔مثلاً لَيَقُوْلُنَّ عَدُوٌّ لَيَقُولُنَّ عَدُوُّ آخری حرکت ختم کرتے ہوئے تشدید ختم نہیں ہو رہی ہے۔مشدد حرف کو مضبوطی سے ادا کرتے ہوئے خیال رکھنا ہے کہ اب آخر میں ساکن حرف گویاد و مر تبہ آ رہا ہے۔اس لئے یہاں آواز ٹھہرا کر آواز کو معمول سے دوگنالمبا کرنا ہے۔وقف کی چند علامات اس موقعہ پر رکتے ہوئے ہلکاساتو قف ہوتا ہے، مگر سانس نہیں ٹوٹتا۔قرآن مجید میں سکتہ کی چند مثالیں : سكتة قَالُوا يُوَيْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا سَك هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ يس 36:53 الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتُبَ وَ لَمْ يَجْعَلْ لَّهُ عِوَجًا من قَيْمًا * وَقِيْلَ مَنْ سَكَنَةِ رَاقِ سكتة كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ آخری دو حوالہ جات میں سکتہ کی وجہ سے ادغام نہیں ہو گا۔الكهف 18:2 القيامة 75:28 التطفيف 83:15