قواعد ترتیل القرآن

by Other Authors

Page 31 of 64

قواعد ترتیل القرآن — Page 31

(1۔i۔ii ہمزہ کی دواقسام همزة الوصل i) همزة الوصل 31 همزة ii) همزة القطع الف ابتدا میں آئے تو پڑھا جاتا ہے۔اگر اس سے قبل کوئی اور حرف ہو تو پھر پڑھنے میں نہیں آتا۔مثلاً الْمَشْرِقَ لیکن اگر ہوتا مِنَ الْمَشْرِقِ تو درمیان میں آنے کی وجہ سے اس کی حرکت ختم ہو گئی اور ہمزہ ساقط ہو گیا۔یا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ یہ ساقط ہونے والا الف، ہمزہ وصلی کہلاتا ہے۔وصل کے معنی ملانے کے ہیں۔پس همزة الوصل ملانے کے کام آتا ہے۔همزة القطع یہ ہمزہ کی ایک قسم ہے جو ہر جگہ پڑھا جاتا ہے۔جس ہمزہ پہ حرکت ہو گی تو وہ قطعی ہے ، اس لئے کہ اس کی حرکت معین ہو گئی ہے۔مثلاً انْذَرْتَهُمْ قرآنِ مجید میں جہاں ایک مقام پر دو ہمزہ اکٹھے آتے ہوں تو دوسرے ہمزہ کو نرمی سے ادا کیا جاتا ہے۔مثلاً أَعْجَمِيٌّ یہاں دوسر ا ہمزہ سہولت سے ادا ہو گا۔یعنی اسے ہمزۃ اور الف کے درمیان نرم آواز سے ادا کریں گے۔