قواعد ترتیل القرآن — Page 14
14 مخرج نمبر 11: حروف ذ،ث اور ظ کی ادائیگی نوک لسان جب ثنایا علیا کے کنارے پہ اس طرح ٹھہرے کہ دانتوں سے ذراسا باہر نکلے، تو ،ث، ظ کا مخرج ہے۔۔i۔ii * ان حروف کی ادائیگی میں سیٹی کی آواز پیدا نہیں ہوتی۔(جبکہ زاورس کی ادائیگی میں سیٹی کی آواز پیدا ہوتی ہے۔) ذ کے لئے نوک لسان سیدھی رہتی ہے، جبکہ ظ کی ادائیگی کے لئے نوک لسان کی پشت ثنایا علیا پہ ٹھہرتی ہے اس لئے تفخیم سے پڑھا جاتا ہے۔( جس طرحت اور ط کا فرق ہے۔) ذ،ث، ظ کو حروف لثویہ کہلاتے ہیں۔(اللہ مسوڑھوں کو کہتے ہیں۔ان حروف کی ادائیگی کے وقت زبان مسوڑھوں پر ٹھہرتی ہے۔) مخرج نمبر 12: حروف ز، ص اور س کی ادائیگی نوک لسان اور نایاسفے کا کنارہ مع کچھ اتصال ثنایا علیا کے ہو، توان حروف کی ادائیگی ہوتی ہے۔i ص میں آواز میں تفخیم سے (یعنی موٹی ) ادا ہوتی ہے اور سیٹی کی آواز بھی پیدا ہوتی ہے۔۔ii۔iii * س میں آواز ترقیق سے (یعنی باریک) ادا ہوتی ہے اور سیٹی کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ز کی آواز میں سیٹی کم ہے البتہ سیٹی کے ساتھ قوت ہے۔نیز اس میں آواز تفخیم سے ادا نہیں ہوتی۔اس کی ادائیگی میں ثنایا علیا اور ثنایا سفلی ملے ہوتے ہیں۔ز، ص اور س حروف صغیریہ کہلاتے ہیں۔مخرج نمبر 13:ف کی ادائیگی ف کا مخرج ثنایا علیا کے کنارے اور نچلے ہونٹ کے شکم کے اتصال سے ہے۔