قتل مرتد اور اسلام — Page 52
52 اس سے ظاہر ہے کہ باوجود ارتداد کے وہ اپنے حال پر چھوڑ دیئے جاتے اور لوگوں کی نظر میں مزے کی زندگی بسر کرتے یہاں تک کہ مسلمان بھی تعجب کرتے کہ یہ دنیاوی برکت ان کے پاس کیوں ہے۔نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ فَقُل لَّن تَخْرُجُوْا مَعِيَ أَبَدًا وَ لَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا (التوبة: 83) ' (اے پیغمبر) تو ان سے کہہ دے کہ تم کو کبھی بھی میرے ساتھ جنگ پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور کبھی بھی تم میرے ہمراہ ہو کر دشمن سے جنگ نہیں کرو گے۔“ ظاہر کرتا ہے کہ ان مرتدین کے لئے قتل کا حکم نہیں تھا کیونکہ اگر ان کے لئے قتل کی سزا مقرر ہوتی تو پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ آئندہ نہ تو تم کبھی میرے ساتھ جہاد کے لئے نکلو گے اور نہ میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے لڑو گے۔اسی طرح اگر ان مرتدین کے لئے قتل کی سزا مقررتھی تو پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔قُلْ أَنْفِقُوا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا أَنْ يُتَقَبَّلَ مِنْكُمْ إِنَّكُمْ كُنتُم إِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فَسِقِينَ (التوبة : 53) (اے پیغمبر) تو اُن سے کہہ دے کہ خواہ خوشی سے خرچ کرو خواہ نا خوشی سے، تم سے کسی صورت میں تمہارا صدقہ قبول نہ کیا جائے گا کیونکہ تم تو اطاعت سے نکل جانے والی قوم ہو۔“ اسی طرح تاریخ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ منافقین کے لئے قتل کی سزا مقر نہیں تھی اگر منافقین کی نسبت قتل کی سزا مقرر ہوتی تو اس سزا کا سب سے زیادہ مستحق عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو مدینے کی منافق پارٹی کا سرغنہ تھا اور جس کا نفاق کسی پر مخفی نہیں تھا۔لیکن باوجود اس کے کہ آپ کی خدمت مبارک میں اس کے قتل کے متعلق کئی مرتبہ تحریک بھی کی گئی پھر بھی آپ نے اس کے قتل کا حکم نہ دیا۔خود عبد اللہ بن ابی کا بیٹا بار بار آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا إِنَّ وَالِدِي يُؤْذِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَذَرْنِي حَتَّى أَقْتُلَهُ