قتل مرتد اور اسلام — Page 32
32 اسلام دین کے معاملہ میں جبر کونا جائز قرار دیتا ہے اور وہ سب آیات ایسی واضح اور تین ہیں کہ ان میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ بعض لوگ جبر کی تعلیم کی طرف جھک جائیں گے اور وہ دین کے لئے جبروا کراہ کو جائز قرار دیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اصول اور قاعدہ اور حکم کے رنگ میں ایک نہایت ہی زبر دست اور چٹان کی طرح مضبوط آیت قرآن شریف میں نازل فرمائی ہے جو ہر ایک ایسے شخص کے دعوی کو جوز مین میں جبر کے جواز کا قائل ہو پاش پاش کر دیتی ہے۔وہ قطعی اور فیصلہ کن حکم یہ ہے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 257) دین میں زبر دستی کا کچھ کام نہیں ( ترجمہ مولوی نذیراحمد صاحب دہلوی) دیکھو یہ کیسے کھلے کھلے اور کیسے واضح الفاظ میں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ دین میں جبر و اکراہ کو کوئی دخل نہیں۔قرآن شریف میں اس واضح اور صریح حکم کے موجود ہوتے ہوئے کس طرح کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اسلام قتل کی دھمکی دے کر لوگوں کو ارتداد سے روکتا ہے کیا وہ دین جو لا اکراہ فی الدین کا اعلان کرتا ہے یہ تعلیم دے سکتا ہے کہ جبر سے لوگوں کو مسلمان بنایا جائے اور وہ لوگ جو اسلام لانے کے بعد اسلام سے برگشتہ ہونا چاہیں ان کو جبر سے مسلمان رکھا جاوے۔یہ آیت کریمہ اپنے منطوق میں ایسی واضح اور بین ہے کہ جو لوگ دین میں جبر وا کراہ کے قائل ہیں وہ اس بات پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس آیت کریمہ کو منسوخ قرار دیں۔ان کا اس آیت کریمہ کو منسوخ قرار دینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ آیت شریفہ کھلے طور پر جبر واکراہ سے روکتی تھی اور کوئی معقول توجیہ ایسی نہیں ہو سکتی تھی جس کے رو سے یہ کہا جاسکے کہ یہ آیت اکراہ کی مانع نہیں ہے اس لئے وہ اس کو منسوخ قرار دینے کے لئے مجبور ہو گئے۔لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں قرآن شریف کوئی حکم نہیں دیتا جس کی دلیل اور حکمت بھی وہ ساتھ ہی بیان نہیں فرماتا۔چنانچہ اس حکم کی دلیل بھی اس حکم کے ساتھ ہی