قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 222 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 222

222 تھے۔اُن کا اس سے زیادہ کوئی قصور نہ تھا کہ وہ زکوۃ خلیفہ وقت کو ادا کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے اور نمازیں پڑھنا چھوڑ بیٹھے تھے۔اس سے زیادہ ان کا کوئی قصور نہ تھا۔نہ وہ مسلمانوں سے لڑتے تھے اور نہ کسی کو کوئی گزند پہنچاتے تھے۔اُن کو حکومت اسلامی سے کوئی پر خاش نہ تھی بلکہ وہ خلیفہ وقت کے تابعدار اور معاون و مددگار تھے اور اسلامی حکومت کے ماتحت وہ امن اور فرمانبرداری سے زندگی بسر کرنے کے خواہاں تھے۔پس اگر اُن کا کوئی قصور تھا تو یہی تھا کہ زکوۃ اور نماز کو وہ ضروری نہ سمجھتے تھے۔اگر مولوی صاحبان کا ایسا خیال ہے تو یہ ان کا بھولا پن ہے۔وہ اُس زمانہ کے تمدن اور اُن لوگوں کے طرز سے بے خبر ہیں۔اُن کے ارتداد کے یہ معنی نہ تھے کہ اُن کو صرف مذہبی اختلاف تھا اور نہ اپنی ملکی زندگی میں وہ اس سلطنت اسلامی کے خیر خواہ اور تابعدار تھے جس کی رعایا ہونے کا وہ مدینہ میں اپنے نمائندوں اور وفود کے ذریعہ اعلان کر چکے تھے۔بلکہ اُن کے ارتداد کے عملی رنگ میں یہ معنے تھے کہ اُنہوں نے اس سلطنت اسلامی جس کی ماتحتی کا جوا وہ اپنی گردنوں پر رکھ چکے ا تھے بغاوت اختیار کی۔یہی وجہ ہے کہ ارتداد کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام کے خلاف تلوار اُٹھالی اور جولوگ اُن میں سے اسلام پر قائم رہے اُن کو قتل کیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے لشکر جمع کرنے شروع کر دیئے۔اسلامی سلطنت سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا اور خود دارالسلطنت اسلامیہ پر حملہ کیا اور اس کا محاصرہ کیا اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہا۔اگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ کیا اور اُن کو تلوار کے ساتھ زیر کیا اور باغیوں کی سرکوبی کی تو اس سے یہ استدلال نہیں ہوسکتا کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے۔اگر ملک میں امن تھا اور مرتدین کو صرف مذہبی اختلاف تھا اور بغاوت کا کوئی ارادہ نہ تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت اُسامہ بن زید کے لشکر کی روانگی کے وقت عمائد مہاجرین و انصار حضرت صدیق اکبر کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ایسے خطرہ کے وقت میں اس لشکر کا روانہ کرنا مصلحت کے خلاف ہے۔