قتل مرتد اور اسلام — Page 221
221 وقال الشافعي رحمه الله لا يقلد احد منهم سواء كان مدركًا بالقياس اولا لان الصحابة كان يخالف بعضهم بعضًا وليس احدهم اولى من الأخر فتعين البطلان۔یعنی شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی صحابی کی تقلید ضروری نہیں۔خواہ وہ امور ایسے ہوں جو قیاس کے ذریعہ معلوم ہو سکتے ہوں یا ایسے ہوں جو قیاس کے ذریعہ معلوم نہ ہو سکتے ہوں کیونکہ صحابہ کا خود ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف ہوا کرتا تھا۔اور اس معاملہ میں ایک کو دوسرے پر کوئی ترجیح نہیں ہے۔پس ثابت ہوا کہ اُن کی تقلید لازمی نہیں ہے۔مندرجہ بالا حوالجات اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ دواوین فقہ و حدیث کا اس امر پر اتفاق نہیں ہے کہ صحابی کا قول یا فعل حجت شرعیہ ہے۔اس لئے اگر مولوی صاحبان یہ ثابت بھی کر دیتے کہ کسی صحابی کا قول یا فعل اس امر کی تائید کرتا ہے کہ مرتد کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل کر دیا جائے تب بھی خود انہی کے مسلمہ دواوین کے رُو سے اُن کی غرض پوری نہیں ہو سکتی تھی لیکن موجودہ بحث میں اعمال صحابہ کی جو مثالیں حامیان قبل مرتد نے اپنے دعوی کی تائید میں پیش کی ہیں جب اُن پر واقعات کی روشنی میں نظر کی جائے تو وہ مثالیں حامیان قتل مرتد کی تائید نہیں کرتیں بلکہ تردید کرتی ہیں۔قتل مرتد کے دعویداروں نے اپنے زعم میں سب سے زیادہ زبر دست مثال جو اپنے دعوای کی تائید میں پیش کی ہے وہ اُس ارتداد کی مثال ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت وقوع میں آیا۔ان کے نزدیک حضرت ابوبکر کا اپنے عہد خلافت کے مرتدین کے ساتھ جنگ کرنا اس امر کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سر اقتل ہے۔ہمارے بھولے بھالے مولوی صاحبان عرب کے قبائل کی طبیعت سے بالکل ناواقف ہیں۔وہ ارتداد کے لفظ کو سن کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مرتدین بالکل بے ضرر لوگ