قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 183 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 183

183 دیکھتے تھے اور آپ نے مخزومی عورت کے واقعہ میں صحابہ کے سامنے اس مضمون پر ایک خاص تقریر فرمائی اور ان کو متنبہ کیا کہ شرعی حدود کے اجراء میں کسی شخص کے ساتھ رعایت کرنا ہلاکت کی راہ ہے اس سے ہمیشہ بچتے رہو۔تم سے پہلی قومیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ایسا نہ ہو کہ تم بھی یہی طریق اختیار کر کے ہلاک ہو جاؤ۔پس جس امر سے آپ نے لوگوں کو ایسی سختی سے ڈرایا یہ کس طرح گمان میں آسکتا ہے کہ آپ نے خود وہی کام کیا؟ اور نہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ گمان ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایسی جرات کی کہ ایک شرعی مجرم کو شریعت کی حد سے بچانے کے لئے اپنے گھر میں کئی دن تک چھپائے رکھا اور پھر اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی کہ اس پر شرعی حد جاری نہ کی جائے۔پس حضرت عثمان کا عبد اللہ بن ابی سرح کو اپنے ہاں پناہ دینا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا باوجود نا پسندیدگی کے محض عثمان کی پاس خاطر اس کو معاف کر دینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی سرح کے قتل کا حکم اس کے ارتداد کی سزا میں نہیں دیا تھا اس کے متعلق بھی اس حکم کی اسی قسم کی وجوہات تھیں جو اس کے ساتھ کے دوسرے دس بارہ آدمیوں کی صورت میں تھیں۔آپ نے صرف عبد اللہ بن ابی سرح کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کے ساتھ بعض اور آدمی بھی تھے جن کے متعلق آپ نے ایسا ہی حکم دیا تھا مگر ان میں سے صرف چار ہی مارے گئے باقی سب کو عبد اللہ بن ابی سرح کی طرح معافی دے دی گئی۔میں ان کی فہرست ذیل میں نقل کرتا ہوں تا ناظرین کو معلوم ہو کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے متعلق قتل کا حکم ارتداد کی وجہ سے نہ تھا بلکہ ان کے دوسرے جرموں کی وجہ سے تھا۔(۱) ابن خطل۔مسلمان ہونے کے بعد ایک صحابی کو قتل کر کے بھاگ آیا تھا۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شعر کہا کرتا تھا اور اپنی لونڈیوں سے آنحضرت صلی اللہ