قتل مرتد اور اسلام — Page 174
174 یہ سب امور صاف طور پر اس امر کے شاہد تین ہیں کہ اسلام میں مرتد کے لئے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے نکل جانے پر ایک طرح کی خوشی کا اظہار کرنا اور فرمانا کہ مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو پاکیزہ جوہر سے جدا کر دیتا ہے صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ اس اصول کے مخالف تھے کہ کسی کو جبر سے اسلام پر رکھا جاوے اور لوگوں کو جبری ذرائع اختیار کر کے ارتداد سے روکا جائے۔بلکہ اگر ناپاک انسان مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جاتا تو آپ اس پر نا خوش نہیں ہوتے تھے۔اور آپ یہ کوشش نہیں فرماتے تھے کہ اس کو اس کی مرضی کے خلاف جبراً اسلام میں رکھا جاوے بلکہ ایسے شخص کا چلا جانا آپ کے نزدیک گویا خس کم جہاں پاک کا مصداق تھا۔اگر آپ کا یہ اصول ہوتا کہ جو شخص ایک دفعہ اسلام میں داخل ہو جائے اس کو ہر ممکن ذریعہ سے اسلام میں رہنے کے لئے مجبور کیا جائے۔اور اگر وہ کسی طرح بھی نہ مانے تو اس کو قتل کیا جاوے تا اس کی مثال دوسروں کے لئے عبرت ہو۔تو چاہئیے تھا کہ آپ اس اعرابی کے جانے پر خفا ہوتے اور صحابہ کو ڈانٹتے کہ تم نے اس کو کیوں جانے دیا ؟ کیوں اس کو پکڑ کر قتل کی دھمکی نہ دی؟ اور چاہیے تھا کہ آپ صحابہ کو حکم دیتے کہ دوڑو! اور جہاں ہو اس خبیث کو پکڑ لاؤ تا اس کو قتل کی سزا دی جائے۔مگر آپ نے ایسا نہ کیا بلکہ دوسرے الفاظ میں یہ فرمایا کہ اچھا ہوا وہ چلا گیا۔وہ اس قابل نہ تھا کہ مسلمانوں میں رہے۔خدا تعالیٰ نے خود اس کو اپنے ہاتھ سے ہم سے جدا کر دیا ہے۔غرض اس اعرابی کی مثال ایک قطعی اور یقینی ثبوت اس امر کا ہے کہ مرتد کے لئے کوئی شرعی سزا مقرر نہ تھی اور مسلمانوں میں قطعاً یہ طریق جاری نہ تھا کہ وہ ہر ایک مرتد کو محض اس کے ارتداد کی وجہ سے قتل کر دیتے۔دوسرا ثبوت اس امر کا کہ مرتد کے لئے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی وہ شرائط ہیں جن