قتل مرتد اور اسلام — Page 157
157 (۱) احادیث کو قرآن شریف کے ذریعہ جانچنے کا قاعدہ دُنیا جہان سے نرالا کلیہ ہے۔“ جو وضع کیا گیا ہے۔(۲) امام بخاری جیسے بزرگ کی نسبت یہ خیال بھی دل میں لانا ایک حیرت انگیز جرات ہے کہ امام موصوف اپنے مجموعہ میں کوئی ایسی حدیث درج کر سکتے ہیں جو قرآن شریف کے مخالف ہو۔(۳) یہ خیال کہ جو حدیث صحت و درستی کے مقررہ اور مفید یقین معیار پر پوری اترے اس کا معارض نصِ قرآنی ہونا، اس کی پذیرائی کے مانع ہے۔اہل علم کے نزدیک پر کاہ جتنی وقعت بھی نہیں رکھتا۔(۴) ایک شخص ایک حدیث کو صحیح مان رہا ہے اور وہ اس کے نزدیک کسی قرآنی نص کے معارض نہیں لیکن دوسرے کا فہم و تدبر اس پر تعارض کا حکم لگا رہا ہے پھر اس اختلاف کے ہوتے ہوئے دواوین پر حدیث کی کوئی حیثیت باقی رہ سکتی ہے؟ اگر ہر زید و بکر کے فہم ہی کو فیصلہ کا معیار مان لیا جائے تو احادیث تو در کنار خود آیات میں بھی ظاہر بینوں کو تعارض کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں۔(۵) جو حدیث محدثین کے اصول کے رو سے صحیح ثابت ہو جائے اس کا معارض قرآن ہونا قطعاً غیر ممکن ہے۔ان سب عذرات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اس بات کیلئے ہرگز تیار نہیں کہ وہ اپنی پیش کردہ روایات کو قرآن شریف کی آیات کے سامنے رکھیں۔بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم نہ صرف ان روایات کو صحیح اور درست تسلیم کر لیں جو حامیان قتل مرتد نے اپنی تائید میں پیش کی ہیں بلکہ ان معنوں کو بھی صحیح یقین کر لیں جو وہ لوگ ان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور قرآن شریف کا نام تک نہ لیں۔تا ایسا نہ ہو کہ قرآن شریف کی آیات بینات ان روایات پر ایسی روشنی ڈالیں جس کے ذریعہ ان کی حقیقت ظاہر ہو جائے اور حامیان قتل مرتد کا طلسم