قتل مرتد اور اسلام — Page 117
117 اسلام میں رکھا جاوے؟ پس مولوی صاحب کی اپنی ہی مثال مولوی صاحب کو یہ سبق سکھاتی ہے کہ قبول اسلام کے بعد بھی ایمان کے معاملہ میں اکراہ جائز نہیں ہے۔اگر ایک شخص اسلام سے الگ ہونا چاہتا ہے تو اس کو ہونے دو۔اس کو جبر کر کے اسلام میں رکھنا اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسلام کو نقصان پہنچانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت منافقین کے وجود سے ہمیشہ پاک اور صاف رہے۔اس موقع پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ قتل مرتد کے دعویداروں نے جس قدر دلائل قتل مرتد کی تائید میں پیش کئے ہیں ان سب میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ اس زور کے ساتھ دیگر مذہب کے پیروؤں کی طرف سے بھی پیش کئے جاسکتے ہیں اور ان کی بناء پر ہر ایک مذہب کے پیرو کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہمارے مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کرے گا تو ہم پر واجب اور لازم ہے کہ ہم ایسے شخص کو قتل کر دیں۔مولوی صاحبان اپنے زعم میں اس امر کا ثبوت دیتے ہیں کہ اسلام میں مرتد کا قتل کرنا واجب ہے مگر وہ اس امر کو بھول جاتے ہیں کہ جو دلائل وہ پیش کر رہے ہیں وہ جیسے مسلمانوں کی طرف سے پیش کئے جاسکتے ہیں اسی طرح مسیحیوں اور ہندوؤں کی طرف سے بھی پیش کئے جاسکتے ہیں اور اگر مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والے کو قتل کر دیں تو اسی طرح مسیحیوں اور ہندوؤں کا بھی حق ہے کہ وہ تمام ان لوگوں کو قتل کر دیں جو ان میں سے اسلام کو قبول کریں۔اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ ان مولوی صاحبان کے دلائل اگر صحیح تسلیم کئے جاویں تو ان سے ان کفار مکہ کی بھی تائید ہوتی ہے جنہوں نے ان لوگوں کو قتل کیا جو ان میں سے نکل کر اسلام قبول کرتے تھے اور جن کے دست تعدی کو روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار اٹھانے کا حکم دیا۔اگر یہ دلائل درست ہیں تو نہ صرف