قتل مرتد اور اسلام — Page 116
116 ملازمت میں داخل ہوتا ہے لیکن بعد میں ثابت ہوتا ہے کہ یہ شخص اپنے فرائض کے ادا کرنے کے نا قابل ہے۔نہ یہ اپنے کام کو خوبی سے ادا کر سکتا ہے نہ اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور نہ یہ دل سے سرکار کا خیر خواہ ہے۔اب مولوی صاحب بتائیں ! ایسے شخص کی نسبت بادشاہ وقت کیا کارروائی کرے گا؟ کیا وہ ایسے ذرائع اختیار کرے گا کہ ایسا شخص کبھی اس کی ملا زمت سے الگ نہ ہو یا فوراً اس کو اپنی ملازمت سے الگ کر دے گا؟ میں یقین کرتا ہوں که مولوی صاحب یہی جواب دیں گے کہ ایسا شخص اس قابل نہیں کہ بادشاہ وقت کی ملا زمت میں رہے۔ایسے شخص کوفور علیحدہ کر دینا چاہئیے۔اب مولوی صاحب اپنے اصول کو دیکھیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہیں کریں گے اور اس صورت میں لا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ پر عمل کیا جائے گا۔لیکن جب ایک شخص ایک دفعہ اسلام کو قبول کر چکے تو پھر وہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کے دائرہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ایسے شخص کو جبراً اسلام میں رکھا جائے گا اور اس کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اسلام کو ترک کرے۔اب میں مولوی صاحب کی مثال کو لے کر مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسا شخص اس ملازم کی طرح نہ ہو گا جو دل سے سرکار کا خیر خواہ نہیں ہے جو اس قابل نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جاوے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ اپنے فرائض کو خوبی کے ساتھ انجام دے سکے۔وہ کون سی خوبی ہے جو ہمارا بادشاہ اپنے بندوں سے چاہتا ہے۔کیا وہ یہی نہیں قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ) (الزمر: 12) (اے رسول) تو کہہ دے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں که اطاعت صرف اسی کے لئے مخصوص کر دوں۔پس کیا ایسا شخص اس خدمت کو بخوبی ادا کر سکے گا؟ کیا وہ اس قابل ہو گا کہ اخلاص کا خراج اپنے بادشاہ کے حضور پیش کرے؟ ہرگز نہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ ایسے شخص کو جبراً