قتل مرتد اور اسلام — Page 109
109 الجمعية کی یہ منطق ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔اگر کسی کو اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے دنیا میں سزا نہ دی جاوے تو اس سے کس طرح لازم آتا ہے کہ وہ عقیدہ جائز ہو گیا۔سورۃ معارج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوْا حَتَّى يُلْقُوْا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ (المعارج : 43) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کفار کو جو دین کے متعلق خوض ولعب میں مصروف ہیں ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ وعدہ کا دن آ جائے۔اب کیا اس سے یہ لازم آتا ہے کہ ان کفار کا خوض ولعب جائز تھا؟ الجمعية لکھتا ہے کہ جب کسی کے غلط عقیدہ پر غلطی کا حکم لگایا گیا تو پھر ”آزادی غلط ضمیر کہاں رہی معلوم نہیں الجمعية نے آزادی ضمیر کے کیا معنی سمجھ رکھے ہیں۔آزادی ضمیر کے اس سے زیادہ اور کوئی معنی نہیں کہ عقیدہ کے معاملہ میں کسی پر جبر نہ کیا جاوے۔یا الجمعیۃ کے اپنے الفاظ میں آزادی ضمیر کے یہ معنی ہیں کہ ”مذہبی عقائد کے متعلق ( خواہ غلط ہوں ) دنیا میں اس سے تعرض نہ کیا جاوے گا اور اس کو سزا نہ دی جائے گی۔اب خدا را الجمعية ہمیں بتائے کہ جب آزادی ضمیر کے وہ معنی لئے جائیں جو اس نے خود شق نمبر ۳ میں بیان کئے ہیں تو ان لفظوں کو ان معنوں میں لیتے ہوئے کس طرح یہ لازم آتا ہے کہ جن لوگوں کو آزادی ضمیر کے اصول کی وجہ سے سزا نہ دی جائے ان کا عقیدہ بھی درست ہے۔اگر ایک شخص کو اس دنیا میں سزا نہ دی جاوے تو اس سے یہ کس طرح لازم آتا ہے کہ اس کا عقیدہ درست ہے؟ پھر الجمعية لکھتا ہے کہ اگر عقیدہ کی وجہ سے سزا نہ دی جاوے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ عمل کی وجہ سے کسی کو سزادی جاوے اس لئے اگر آزادی ضمیر کا اصول درست ہے تو ایسی صورت میں مذہبی سیاست کا وجود نہیں ہونا چاہئیے۔نہ کسی کو زنا کی سزادی جاوے اور نہ