قتل مرتد اور اسلام — Page 87
87 میں سے ارتداد اختیار کر کے جماعت اسلامی سے نکلے گا تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ مخلص اور مجاہد مومنین کی ایک جماعت لائے گا۔یہ آیت کریمہ مدینہ میں اتری جہاں کہ اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی مگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ نہیں کہتا کہ اگر تم میں سے کوئی ارتداد اختیار کرے تو تمہیں ایسے شخص کو مجبور کرنا چاہئیے کہ وہ اسلام میں ہی رہے اور اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کرے تو اسے قتل کر دینا چاہیے بلکہ فرماتا ہے کہ ایسے موقع پر تمہیں کچھ غم نہیں کرنا چاہئیے کہ کیوں یہ شخص اسلام کو چھوڑتا ہے اگر وہ اسلام کو چھوڑ نا چاہتا ہے تو اسے چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ ایک ارتداد کرنے والے کے بدلے میں ایک جماعت تمہیں دے گا۔جب یہ صورت تھی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی کہ مرتدین کو مجبور کریں کہ وہ اسلام میں دوبارہ داخل ہوں اور مسلمانوں کی جماعت میں ایک منافق کا اضافہ کر کے خدا کے اس فضل کو روکیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اسلامی جماعت میں ایک مخلص قوم کا اضافہ کرنا تھا۔پس اس آیت کریمہ کا مفہوم بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ مسلمانوں کو یہ حکم نہیں ہے کہ وہ قتل کی دھمکی دے کر لوگوں کو ارتداد سے روکیں اور ارتداد اختیار کرنے والوں کو قتل کر دیں۔آٹھویں آیت وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِّنْ بَعْدِ ايْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ (البقرة: 110) مسلمانو! اکثر اہل کتاب باوجود یکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے پھر بھی اپنے دلی حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لائے پیچھے پھر تم کو کافر بنا دیں۔اس آیت کریمہ میں بھی یہ موقع تھا کہ مسلمانوں کو ڈرایا جا تا کہ اگر تم یہود کے بہکانے سے اسلام سے پھر گئے تو تمہیں قتل کی سزادی جائے گی مگر یہاں کسی ایسی سزا کا ذکر نہیں۔علاوہ ازیں یہود کا