قتل مرتد اور اسلام — Page 80
80 پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے اپنے عدم حافظہ کا عجیب ثبوت دیا ہے اس موقع پر انہوں نے ارتداد کے متعلق تین آیات پر جرح کی ہے اور آیت زیر بحث اس سلسلہ میں آخری آیت ہے جس کے متعلق انہوں نے اپنے ضمیر کے خلاف اس امر پر زور دیا ہے کہ یہاں قیمت کے معنے عام مرتدین کے لئے قتل کے ہی ہیں۔لیکن جونہی وہ اس آیت پر اپنی بحث کو ختم کر چکتے ہیں ان کے سارے دلائل فوراً ان کے حافظہ سے نکل جاتے ہیں اور جو کچھ تکلف سے انہوں نے ثابت کرنا چاہا تھا وہ سب ان کو فراموش ہو جاتا ہے اور ان تینوں آیات پر بحث ختم کرنے کے بعد پہلی بات جو ان کے قلم سے نکل جاتی ہے وہ یہ ہے:۔بلا شبہ ان تینوں آیات قرآنی میں سزائے قتل کا کوئی ذکر نہیں مولوی صاحب! آپ بھول گئے۔تیسری آیت میں تو ضرور سزائے قتل کا ذکر ہے کیونکہ آپ نے بڑی کوشش سے یہ ثابت کرنا چاہا تھا کہ یہاں عام مرتدین کے لئے موت کے معنے طبعی موت نہیں بلکہ قتل کے ہیں اور آپ نے بڑی حکمتیں بیان فرمائی تھیں کہ یہاں خدا تعالیٰ نے بجائے قتل کے موت کا لفظ کیوں اختیار کیا؟ مولوی صاحب! حافظہ نباشد والی بات سچ ہے میں نے یونہی آپ کے اس دعوئی کی تردید کی کوشش کی۔آپ نے تو خود ہی اپنے سارے لکھے لکھائے پر خط نسخ کھینچ دیا تھا کہ بلا شبہ ان تینوں آیات قرآنی میں سزائے قتل کا کوئی ذکر نہیں۔“ قرآن شریف کی جن تین آیات کی نسبت مولوی ظفر علی خان صاحب اعتراف کرتے ہیں کہ بلا شبہ ان تینوں آیات قرآنی میں سزائے قتل کا کوئی ذکر نہیں، انہی میں سے تیسری آیت میں سے جس پر میں ابھی بحث کر چکا ہوں، ایک دیوبندی مولوی صاحب اخبار زمیندار مؤرخہ 5 اکتوبر 1924ء میں اپنی منطق کے زور سے اس امر کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔پہلے مولوی صاحب نے تو قیمت سے قتل مرتد کا ثبوت نکالا تھا مگر اس دوسرے مولوی صاحب نے اس سے بھی زیادہ کمال دکھایا