قتل مرتد اور اسلام — Page 79
79 لیتے کہ یہ آیت سب مرتدین کے متعلق ہے اور قیمت کا لفظ اور صرف اخروی سزا کا ذکر صاف طور پر بتلا رہے ہیں کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے۔یہ آیت بطور ایک تحذیر کے نازل ہوئی ہے اور اگر مرتد کے لئے قتل سزا مقرر ہوتی تو یہ اس کے ذکر کا عین محل تھا مگر اس موقع پر اس سزا کا ذکر نہ ہونا صاف بتاتا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔دیکھو صاحب روح البیان اس آیت کریمہ کے متعلق کیا لکھتے ہیں:۔هو تحذير من الارتداد وفيه ترغيب فى الرجوع الى الاسلام بعد الارتداد الى حين الموت۔( روح البیان جلد نمبر 1 صفحہ 227) اس آیت میں ارتداد سے ڈرایا گیا ہے نیز اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ ارتداد سے رجوع کر کے پھر اسلام کی طرف لوٹ آویں اور یہ موقع ان کو آخری دم تک حاصل ہے۔“ نہایت تعجب کی بات ہے کہ رحیم کریم خدا تو مرتدین کو زندگی بھر کی مہلت دے تاوہ ارتداد سے رجوع کر کے اسلام قبول کر لیں اور اس طرح اُخروی عذاب سے کسی طرح بچ جاویں۔لیکن ہمارے علماء میں سے بعض تو یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ انہیں فورا قتل کر دیا جائے ایک دم مہلت کی بھی ضرورت نہیں اور بعض زیادہ سے زیادہ تین دن کی مہلت دینے پر بڑی مشکل سے راضی ہوتے ہیں۔مولوی صاحب کا عقیدہ خواہ کچھ ہی ہو مگر قرآن شریف کی آیات پر جب انہوں نے جرح کی ہے تو اپنے ضمیر اور کانشنس کوعمد بالائے طاق رکھ کر صرف اپنی قلم کے زور سے سفید کو سیاہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔خود ان کا قلب جانتا تھا کہ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں صرف میری سینہ زوری ہے اور ایسے موقع پر ضروری ہے کہ انسان سے کسی وقت بچ بھی نکل جائے کیونکہ عمد أغلط بیانی کی جائے تو اس کو پورے طور پر نباہنا مشکل ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے ان کو یاد نہیں رہتا کہ ابھی ہم کیا کہہ آئے ہیں۔چنانچہ اسی آیت