قتل مرتد اور اسلام — Page 71
71 پہلی آیت اور بعد کی آیت اپنے مفہوم میں عام ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ان دونوں آیات کی درمیانی آیات کو باوجود الفاظ کی عمومیت کے صرف یہود کے لئے خاص سمجھا جائے۔حامیان قتل مرتد فرماتے ہیں کہ ان آیات کو بہ سلسلہ ارتداد پیش کرنا ہی قرآن سے انتہا درجہ کے جہل کا ثبوت ہے۔( زمیندار 20 مارچ 1945ء کالم 2 صفحہ 2) ان صاحبان کی دل چسپی کے لئے میں چند خاص خاص تفاسیر سے کچھ اقتباس ذیل میں درج کرتا ہوں تا ان بزرگوں کو دیکھ کر حیرت ہو کہ صرف ہم ہی نہیں جنہوں نے بسلسلہ ارتداد پیش کر کے قرآن شریف سے انتہا درجہ کا جہل کا ثبوت دیا ہے بلکہ وہ جو مسلمانوں میں چوٹی کے مفسر شمار کئے جاتے ہیں وہ بھی ہماری طرح اسی انتہا درجہ کے جہل میں مبتلا ہیں۔پہلا مفسر جس نے ان آیات کو مرتدین پر چسپاں کر کے بقول مولوی ظفر علی خان صاحب قرآن شریف سے انتہا درجہ کے جہل کا ثبوت دیا ہے ، روح البیان کا مصنف ہے۔وہ لکھتا ہے:۔فان قيل ظاهر الأية يقتضي ان من كفر بعد اسلامه لا يهديه الله ومن كان ظالمًا لا يهديه الله وقدر اينا كثيرا من المرتدين اسلموا و هداهم وكثير من الظالمين تابوا عن الظلم فالجواب ان معناه لا يهديهم ما داموا مقيمين على الرغبة فى الكفرو التِّبَابُ عليه ولا يقبلون على الاسلام واما اذا تحروا اصابة الحق والاهتداء بالادلة المنصوبة فَحِينَئِذٍ يهديهم الله بخلق الاهتداء فيهم۔روح البیان جلد نمبر 1 صفحه 344) دوسرا مفسر جس نے بقول مولوی ظفر علی خان صاحب ایسے انتہا درجہ کے جہل کا ثبوت دیا ہے، ابن جریر ہے۔وہ اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں :۔بقول مولوی ظفر علی خان صاحب