قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 55 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 55

55 کیا قرآن کریم مقتل مرتد کے سوال پر ساکت ہے؟ قتل مرتد کے حامی قرآن کریم میں اپنے دعوئی کی کوئی تائید نہ پا کر بلکہ قرآن شریف کی تعلیم کو اپنے خیال کے بالکل الٹ دیکھ کر اپنے آپ کو بچانے کی اس طرح بے سود کوشش کرتے ہیں کہ قرآن شریف اس مسئلہ کے متعلق ساکت ہے۔مگر یہ حیلہ ان کے لئے کوئی بچاؤ کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ان کے اس قول کے دوسری لفظوں میں یہ معنے ہیں کہ جب تک ہم قرآن شریف میں ان کو یہ لکھا ہوا نہ دکھا دیں کہ مرتد کو قتل مت کرو ان کی تسلی نہیں ہوسکتی۔قرآن شریف ایک حکیم کتاب ہے وہ ہر ایک لغو کلام سے پاک ہے۔جب قرآن شریف کی تعلیم ہی اس امر کے مخالف پڑی ہوئی ہے کہ کسی کو صرف مذہب کی تبدیلی پر قتل کیا جائے وہ بآواز بلند کہہ رہی ہے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف: 30) کہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کر دے۔وہ اس امر کا بار بار اعلان کر رہی ہے۔مَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا (بنی اسراءیل : 16) جو ہدایت کو قبول کرے گا اس کا ہدایت پانا اسی کی ذات کے فائدہ کے لئے ہے اور جو اس ہدایت کو ر ڈ کر کے گمراہ ہو گا اس کا گمراہ ہونا اسی کے نفس کے خلاف پڑے گا۔اور جب وہ پکار پکار کر کہ رہی ہے مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلْغُ (المائدة: 100) رسول پر صرف بات کا پہنچانا واجب ہے۔