قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 44 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 44

44 دیکھتے ہیں کہ حق کے دشمن ہمیشہ خدا کے راستبازوں کو دکھ دیتے ہیں اور ہمیشہ ان کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی قوت و بازو کے زور سے راستبازوں کو یا تو فنا کر دیں یا ان کو مجبور کریں کہ وہ حق سے توبہ کریں۔کوئی ایک مثال بھی تم ایسی پیش نہیں کر سکتے جبکہ راستبازوں کی جماعت نے دین کے معاملہ میں کسی پر جبر کیا ہو۔پس مذہبی خیالات کی وجہ سے کسی کو دکھ دینا اور اس کو مجبور کرنا کہ وہ فلاں قسم کے خیالات قبول کرے خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک ظلم ہے اور جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ظالم اور جبار ہے اور خدا تعالیٰ کے آگے اپنے فعل کا جواب دہ ہے خواہ وہ ریاست کابل کا امیر ہو یا ملک مصر کا فرعون ، خواہ وہ لاہور کا ظفر علی خاں ہو یا وادی مکہ کا ابوالحکم۔مرتدین کے سوال کا فیصلہ منافقین کی مثال سے یہ ظاہر ہے کہ جو شخص قتل کے خوف سے اسلام نہیں چھوڑے گا یا قتل کے ڈر سے ارتداد کے بعد پھر اسلام قبول کرے گا ایسا شخص دل سے مسلمان نہیں ہوگا بلکہ اس کا دل کا فر ہوگا اور صرف زبان سے اسلام کا اقرار کرے گا۔ایسا شخص اسلام کی اصطلاح میں منافق کہلائے گا۔اس لئے منافق کے متعلق قرآن شریف کی تعلیم پر غور کرنے سے ارتداد کا سوال بھی حل ہو سکتا ہے۔اگر قرآن شریف نفاق کی اجازت دیتا ہے اور مسلمانوں کی جماعت میں منافقوں کے وجود کو استحسان کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان سے ویسا ہی سلوک روا رکھتا ہے جیسا کہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ تو اس صورت میں بے شک ماننا پڑے گا کر قتل مرتد جائز ہے۔کیونکہ قتل مرتد کی صورت میں جو قباحتیں نظر آتی ہیں اور جو لازمی نتیجہ اس سے پیدا ہوتا ہے یعنی نفاق اور مسلمانوں کی جماعت میں منافقین کے گروہ کا شامل ہو جانا ان کے متعلق خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایسی باتیں نہیں جو خدا تعالیٰ کو نا پسند ہوں بلکہ