قتل مرتد اور اسلام — Page 43
43 نکلنے پر مجبور ہو گئے اور وہ اپنا مال و اسباب اور اپنے گھر بار چھوڑ چھاڑ کر اپنی جان بچانے کے لئے مکہ سے بھاگ گئے۔جو غریب، بوڑھے، عورتیں اور بچے پیچھے رہ گئے جو بھاگنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ان کے بڑھاپے اور ان کی بے کسی اور ان کی عورت ذات ہونے پر بھی ان کو رحم نہ آیا اور ان پر ظلم و تعدی کا ہاتھ دراز کیا۔چنانچہ وہ خدا کے آگے نہایت عجز وانکسار سے زاری کرتے تھے اور چیختے تھے اور گڑ گڑاتے ہوئے کہتے تھے:۔رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا (النِّسَاء: 76) اے ہمارے پروردگار! ہم کو اس بستی یعنی مکہ سے کہیں نجات دے جہاں کے رہنے والے ہم پر ظلم کر رہے ہیں اور خود ہی اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا اور خود ہی اپنی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار بنا۔جو لوگ عمائد مکہ کے ظلم وستم سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے گھر بار چھوڑ کر بھاگ گئے تھے ان کا پیچھا بھی سردارانِ مکہ نے نہ چھوڑا اور چاہا کہ تلوار سے ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیں یا وہ مجبور ہو کر اپنی جان بچانے کے لئے اپنے نئے مذہب سے تائب ہو کر واپس اپنے آبائی مذہب میں داخل ہو جاویں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إنِ اسْتَطَاعُوا (البقرة: 218) اور یہ کفار سدا تم سے لڑتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہو سکے تو تم کو تمہارے دین سے واپس اپنے مذہب میں پھیر لیں۔غرض تمام مذہبی تاریخ کو دیکھو تمہیں ایک ہی نظارہ نظر آئے گا کہ حق کے متبع کبھی کسی کو مذہبی عقائد کی وجہ سے دکھ دیتے ہوئے نہیں دیکھے جائیں گے۔لیکن ہر زمانہ میں ہم