قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 42 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 42

42 متذکرہ بالا واقعات کو ان واقعات پر جو آج کل سرزمین کابل میں ظہور پذیر ہوئے ہیں چسپاں کرو اور بتلاؤ کہ مومنین کے حالات کس جماعت پر چسپاں ہوتے ہیں اور کس نے فرعون کا پارٹ ادا کیا؟ کن نوجوانوں نے وہ ثبات اور جان شاری دکھائی جو حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں مومنین نے دکھائی تھی اور کس گروہ نے ان سے وہ سلوک کیا جو موسی علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون اور اس کے سرداروں نے مومنین سے کیا تھا؟ یہ واقعات قرآن شریف میں اس لئے بیان کئے گئے تھے کہ مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں اور وہ راہ اختیار نہ کریں جو پہلے زمانوں میں متکبر اور سرکش اور اپنی طاقت پر گھمنڈ ر کھنے والے لوگ کیا کرتے تھے۔مگر ہائے افسوس! بجائے اس کے کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کر کے دشمنانِ حق کی راہوں سے اجتناب کرتے انہوں نے وہی راہ اختیار کی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں نمرود نے اور حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون اور اس کے سرداروں نے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں یہود کے فریسیوں اور فقیہوں نے اختیار کی تھی۔پھر میں کہتا ہوں کہ کابل کے سرداروں اور اراکین نے احمدی جماعت کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا ہے جو مکہ کے عمائد نے صحابہ کی غریب جماعت کے ساتھ اختیار کیا تھا۔اللہ تعالیٰ مہاجرین کی نسبت فرماتا ہے:۔فَالَّذِيْنَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ أُوذُوا فِي سَبِيْلِى (ال عمران: 196 ) پس جن لوگوں نے ہمارے لئے اپنے دیس چھوڑے اور ہماری وجہ سے اپنے گھروں سے نکالے گئے اور دکھ دیئے گئے۔یہ آیت اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ غریب مسلمانوں کو عمائد مکہ نے اس قدر دکھ دیئے اور ان پر اس قدر ظلم کئے کہ وہ اپنے گھروں سے