قتل مرتد اور اسلام — Page 31
31 ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہوسکتا۔اگر جبر کا اصول درست ہوتا تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اس کام کو لوگوں کے سپر د کرتا۔وہ اگر چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگوں کو خود مسلمان بنا دیتا۔اس معاملہ میں اس کو انسانوں کی امداد کی ضرورت نہ تھی۔پھر فرماتا ہے جبر سے کوئی کسی کو کس طرح مسلمان بنا سکتا ہے۔ایمان کی توفیق دینا تو خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور جو لوگ خداداد عقل سے کام نہیں لیتے ان کو ایمان کی توفیق نہیں دی جاتی۔پس یہ آیات بھی دین کے معاملہ میں جبر کرنے سے روکتی ہیں اور اس کو ایک بیہودہ فعل قرار دیتی ہیں۔کیونکہ اس سے وہ غرض پوری نہیں ہوسکتی جس کے لئے جبر کا استعمال کیا جاتا ہے اور جس طرح ایسے شخص کے لئے جبر کرنا نا جائز ہے جو کبھی مسلمان نہیں ہوا اسی طرح اس شخص کے لئے بھی جبر نا جائز ہونا چاہیے جو اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرتا ہے۔پیدائشی کافر بھی کافر ہے اور مرتد بھی کافر ہے اور اگر پیدائشی کافر کے لئے جبروا کراہ درست نہیں تو مرتد کے لئے بھی درست نہیں ہوسکتا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک صورت میں جبرنا جائز ہو اور دوسری صورت میں جبر جائز ہو۔جبر ہر صورت میں نا جائز ہونا چاہئیے۔جبرا گر بُری چیز ہے تو دونوں صورتوں میں بُری ہونی چاہئیے۔پیدائشی کافر کی صورت میں جبر کیوں ناجائز تھا ؟ اسی لئے کہ جبر کے ذریعہ کسی کے دل میں اسلام کا نور داخل نہیں کیا جا سکتا اور یہی وجہ مرتد کی صورت میں بھی موجود ہے۔کیونکہ جیسا پیدائشی کافر کو جبر وا کراہ کے ذریعہ ہدایت نہیں دی جاسکتی اسی طرح مرتد کی صورت میں بھی جبر وا کراہ ہدایت کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔پس اگر پیدائشی کافر کے لئے جبر نا جائز ہے تو مرتد کے لئے بھی جبر اسی طرح ناجائز ہونا چاہیے۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الكهف:30) جیسا پیدائشی کا فر پر چسپاں ہوتا ہے ویسا ہی مرتد پر۔میں قرآن شریف کی بہت سی آیات پیش کر چکا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ